اسلام آباد ۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی صف بندی سے متعلق ایک نئی فہرست سامنے آئی ہے، جس سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر اختلافات کی نئی لہر کا انکشاف ہوا ہے۔ پارٹی کے متعدد ارکان پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفے نہ دے کر پارٹی قیادت کے لیے چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے 25 ارکان قومی اسمبلی نے تاحال قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ نہیں دیا، حالانکہ پارٹی کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ تمام ارکان پارلیمانی امور سے مکمل لاتعلقی اختیار کریں۔

پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ارکان میں سلیم الرحمان، شفیق آرائیں، محمد بشیر خان، عائشہ نذیر جٹ، فیاض حسین، محمد ریاض فتیانہ، محبوب سلطان اور معظم علی خان شامل ہیں، جو اب بھی قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں کا حصہ ہیں۔بعض ارکان نے پارٹی فیصلے کے باوجود پارلیمانی سرگرمیوں میں شمولیت جاری رکھنے پر زور دیا ہے، جس سے پی ٹی آئی کے اندر پالیسی تضاد اور قومی اسمبلی میں تقسیم واضح ہو رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال پارٹی قیادت کے لیے بڑا امتحان بن چکی ہے، جہاں ایک جانب پارٹی اجتماعی استعفوں کی پالیسی پر قائم ہے، وہیں دوسری طرف بعض ارکان پارلیمانی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔پارلیمانی کمیٹیوں میں موجودگی نہ صرف قانونی حیثیت رکھتی ہے بلکہ اسمبلی کے اندرونی معاملات پر اثر انداز ہونے کا بھی ذریعہ ہے۔پارٹی کے اس داخلی انتشار نے اپوزیشن کی مجموعی حکمت عملی کو بھی غیر یقینی کا شکار بنا دیا ہے، جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتیں اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔