راولپنڈی: مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کے متعلق مبینہ توہین آمیز گفتگو کے الزام میں انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے دائر پٹیشن کی سماعت سیشن کورٹ راولپنڈی میں ہوئی۔
یہ پٹیشن تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری حافظ احتشام احمد کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج محمد طارق ایوب نے کی۔ پٹیشنر کی جانب سے وکیل راجہ عمران خلیل ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) راولپنڈی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جس میں بتایا گیا کہ انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف پہلے ہی تھانہ سٹی جہلم میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت مقدمہ درج کیا جا چکا ہے، لہٰذا مزید مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
تاہم پٹیشنر کے وکیل راجہ عمران خلیل نے اس رپورٹ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ حضور ﷺ کی عزت و ناموس کا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ این سی سی آئی اے نے حقائق کے برعکس رپورٹ جمع کرائی۔ ان کا مؤقف تھا کہ تھانہ سٹی جہلم میں درج مقدمہ ہماری درخواست سے مختلف نوعیت کا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جہلم میں درج مقدمہ ایک لیکچر کے دوران دیے گئے مبینہ توہین آمیز کلمات کی ویڈیو پر مبنی ہے، جب کہ ان کی درخواست صحافی میاں عمران ارشد کو دیے گئے انٹرویو میں کیے گئے مبینہ توہین آمیز کلمات کے خلاف ہے۔ اس لیے دونوں مقدمات کی بنیادیں مختلف ہیں۔
عدالت نے سی سی پی او راولپنڈی کو حکم دیا کہ وہ تھانہ سٹی جہلم میں درج مقدمے کا مکمل ریکارڈ 11 ستمبر کو عدالت میں پیش کریں۔ فاضل جج محمد طارق ایوب نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے، لہٰذا ریکارڈ دیکھنے اور فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
عدالت نے مزید سماعت 11 ستمبر تک ملتوی کر دی۔