کوئٹہ میں کوئٹہ: سریاب روڈ پر دھماکہ، 13 جاں بحق، 29 زخمی-اختر مینگل، محمود خان اچکزئی اور دیگر رہنما بال بال بچ گئے

کوئٹہ — سریاب روڈ پر واقع شہوانی اسٹیڈیم کے پارکنگ ایریا میں منگل کی رات زور دار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 13 جاں بحق، 29 زخمی ہوگئے۔ دھماکہ اس وقت پیش آیا جب بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگَل) کے سربراہ سردار اختر مینگل اپنے والد اور معروف قوم پرست رہنما سردار عطااللہ مینگل کی برسی کی تقریب کے بعد دیگر سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ واپس جا رہے تھے۔

عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب اختر مینگل، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور دیگر رہنما اپنی بُلٹ پروف گاڑیوں میں سوار ہو رہے تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں ایک بُلٹ پروف گاڑی کو شدید نقصان پہنچا تاہم رہنما محفوظ رہے۔

ریسکیو ٹیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا جہاں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے 4 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ ایک منظم دہشت گرد کارروائی معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد بلوچستان کی قوم پرست قیادت کو نشانہ بنانا تھا۔

اس موقع پر تقریب میں شریک سینکڑوں کارکنوں اور عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے کے بعد شہر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی اور اہم سیاسی رہنماؤں کی حفاظت مزید سخت کر دی گئی ہے۔
سریاب روڈ پر منگل کی رات ہونے والے طاقتور دھماکے نے پورے علاقے کو دہلا دیا۔ سول اسپتال کے ترجمان کے مطابق واقعے میں کم از کم 13 افراد جاں بحق جبکہ 29 زخمی ہوئے جن میں پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔

دھماکہ شاہوانی اسٹیڈیم کے قریب اس وقت ہوا جب شام کے اوقات میں شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی شواہد دھماکے کو خودکش قرار دیتے ہیں۔ سی ٹی ڈی کی ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔

سول اسپتال کوئٹہ کے ایم ایس ڈاکٹر ہادی کاکڑ نے ہلاکتوں کی تصدیق کی اور کہا کہ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ پانچ زخمی نازک حالت میں ہیں۔ قریبی عمارتوں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “معصوم شہریوں پر بزدلانہ حملہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کا خون بہانے والے انسانیت کے دشمن ہیں جو خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔ “ہم ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔”

وزیراعلیٰ نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ “کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔” انہوں نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ کمیٹی کو جلد از جلد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی پہلی ذمہ داری ہے۔ “وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر بلوچستان میں امن قائم رکھیں گی، کسی کو بھی امن کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”

اپنا تبصرہ لکھیں