پاکستان اور چین کا اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عزم

پاکستان اور چین نے منگل کے روز اپنی “آہنی، ہر موسم کی آزمودہ اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری” کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس منفرد تعلق کو مزید فروغ دینے کے لیے قریبی تعاون پر زور دیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے بیجنگ کے عظیم ہالِ عوام میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہ اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ اجلاس 31 اگست سے یکم ستمبر تک منعقد ہوا۔ ملاقات میں دوطرفہ تعاون، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات “منفرد اور بے مثال” ہیں جنہیں مزید مضبوط دوطرفہ تعاون کے ذریعے عملی طور پر ظاہر کیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان چین کے ساتھ مل کر سی پیک کے اگلے مرحلے پر کامیابی سے عملدرآمد کرے گا، جس میں پانچ نئے کاریڈورز شامل ہیں۔ انہوں نے صدر شی کی قیادت کو “دوراندیش اور انقلابی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چین کی ترقی اور جدیدیت پر فخر ہے۔

وزیر اعظم نے صدر شی کو ایس سی او سربراہ اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور دوسری جنگِ عظیم کے اینٹی فاشسٹ جنگ کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

انہوں نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت کو سراہا اور کہا کہ سی پیک، صدر شی کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا اہم منصوبہ ہے جو پاکستان اور چین کو مشترکہ مستقبل کی ایک مضبوط برادری میں مزید قریب کرے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر شی کے عالمی اقدامات کی بھی بھرپور تائید کی، جن میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات دنیا میں امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دیں گے۔

صدر شی نے یقین دلایا کہ چین پاکستان کی معاشی ترقی کے ہر شعبے میں تعاون جاری رکھے گا، خصوصاً سی پیک کے دوسرے مرحلے میں پاکستان کے اہم معاشی شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد چین کے شہریوں اور منصوبوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔

اعلیٰ سطحی ملاقات میں ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا اور قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

وزیر اعظم نے صدر شی کو آئندہ سال پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی، جب دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا: “پاکستان کو چین کی کامیابیوں پر فخر ہے اور ہم ہمیشہ اس عظیم سفر میں بیجنگ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے تیار ہیں۔”

اپنا تبصرہ لکھیں