بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر دہشت گردوں کے حملے میں پاکستان آرمی اور ایف سی کے کم از کم چھ اہلکار شہید ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پانچ دہشت گردوں نے عمارت میں گھسنے کی کوشش کی اور ایک بارود سے بھری گاڑی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں احاطے کی دیوار کا حصہ منہدم ہوگیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، 5 دہشتگردوں نے ایف سی لائنز کے مرکزی دروازے کو توڑنے کی کوشش کی اور بارود سے بھری گاڑی کو دیوار سے ٹکرا دیا، جس سے احاطے کا ایک حصہ زمین بوس ہوگیا۔ دھماکے سے قریبی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔
فوجی ترجمان کے مطابق، سیکیورٹی اہلکاروں نے بہادری سے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام 5 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ آپریشن کلیئرنس ابھی بھی جاری ہے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے اور عوام بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، اور اس واقعے میں دی گئی قربانیاں اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے اور عوام بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، اور اس واقعے میں دی گئی قربانیاں اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی ایف سی لائنز کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا دی جس سے زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے سے قریبی مکانات کو نقصان پہنچا اور شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
دھماکے کے فوری بعد شدت پسندوں نے جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی اور کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم پولیس اور سکیورٹی فورسز نے بروقت جوابی کارروائی کی۔ حکام کے مطابق پانچ کے قریب دہشت گرد اس حملے میں شامل تھے جن میں سے تین سے پانچ کو ہلاک کر دیا گیا۔
فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سلیم کلچی اور ریجنل پولیس آفیسر سجاد خان موقع پر پہنچے اور آپریشن کی نگرانی کی۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر دونوں مرکزی شاہراہیں سیل کر دیں۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد کئی گھنٹوں تک وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جس سے شہریوں میں شدید خوف کی فضا پیدا ہوگئی۔
تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سکیورٹی حکام نے اسے ایک بڑے دہشت گرد حملے کی کوشش قرار دیا ہے جو ایف سی کے مرکزی مرکز کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا۔ حکام نے بنوں شہر میں ایمرجنسی نافذ کر کے قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔