کابل ؛ افغانستان کے مشرقی علاقوں میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1124 ہوگئی ہے، جبکہ 3251 افراد زخمی اور 8 ہزار سے زائد مکانات زمین بوس ہو گئے ہیں۔ افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے منگل کو اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مسلسل مصروف ہیں۔
رات بھر ریسکیو آپریشن
کنڑ صوبے کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ احسان اللہ احسان نے اے ایف پی کو بتایا کہ “آپریشن رات بھر جاری رہا، ابھی بھی دور دراز دیہاتوں میں زخمی افراد پھنسے ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔”
دیہاتیوں نے بھی ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ شمولیت کی اور ننگے ہاتھوں سے کچی اور پتھریلی دیواروں کے ملبے کو ہٹانے کی کوشش کی۔ 26 سالہ عبیداللہ ستومان، جو اپنے دوست کو تلاش کرنے کے لیے وادی کے گاؤں پہنچے، نے کہا: “میں یہاں تلاش کررہا ہوں لیکن وہ نہیں ملا۔ یہاں کی حالت دیکھنا میرے لیے بہت مشکل تھا… یہاں صرف ملبہ رہ گیا ہے۔”
ہلاک ہونے والوں کی لاشیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں، دیہاتیوں نے سفید کفن میں لپیٹ کر نمازِ جنازہ کے بعد سپرد خاک کیں۔ اقوامِ متحدہ کی مائیگریشن ایجنسی کے مطابق، کئی متاثرہ دیہات تاحال بند سڑکوں کی وجہ سے ناقابل رسائی ہیں۔
بحرانوں میں گھرا ملک
افغانستان دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل ہے، جو دہائیوں کی جنگ کے بعد اب بھی انسانی بحران سے دوچار ہے۔ طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد غیر ملکی امداد میں بڑی کمی واقع ہوئی، جس نے آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید محدود کردیا۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب رواں سال کے آغاز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکہ نے، جو سب سے بڑا ڈونر تھا، تقریباً تمام امداد منسوخ کردی۔
اقوام متحدہ نے جون میں اعلان کیا تھا کہ فنڈز میں شدید کمی کی وجہ سے عالمی سطح پر انسانی امدادی پروگراموں کو بڑی حد تک کم کیا جا رہا ہے۔ پیر کے روز اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ ادارہ افغان حکام کے ساتھ مل کر فوری امداد فراہم کرنے پر کام کر رہا ہے اور ابتدائی طور پر 5 ملین ڈالر جاری کیے گئے ہیں۔
طالبان اور عالمی ردعمل
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر کنڑ میں 800 ہلاکتوں اور 2500 زخمیوں کی اطلاع دی، جبکہ ننگرہار اور لغمان صوبوں میں بھی درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی۔
“بہت زیادہ خوف و ہراس تھا… بچے اور عورتیں چیخ رہی تھیں۔ ہماری زندگی میں کبھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا،” نورگل کے زرعی محکمے کے اہلکار اعجاز الحق یاد نے اے ایف پی کو بتایا۔
ویٹیکن کی جانب سے جاری بیان میں پوپ لیو چہاردہم نے زلزلے سے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
بار بار آنے والے زلزلے
ماہرین کے مطابق اتھلے (shallow) زلزلے زیادہ تباہی مچاتے ہیں، خاص طور پر افغانستان میں جہاں زیادہ تر لوگ کچی اینٹوں کے کمزور گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ متاثرہ افراد میں وہ بھی شامل ہیں جو حالیہ برسوں میں ایران اور پاکستان سے واپس لوٹے ہیں اور نازک حالات میں دوبارہ بسنے پر مجبور ہیں۔
افغانستان زلزلوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ہندوکش پہاڑی سلسلے میں جہاں یوریشین اور انڈین ٹیکٹونک پلیٹس ملتی ہیں۔ اکتوبر 2023 میں ہرات صوبے میں 6.3 شدت کے زلزلے سے 1500 سے زائد افراد جاں بحق اور 63 ہزار گھر تباہ یا متاثر ہوئے تھے۔ اسی طرح جون 2022 میں پکتیکا صوبے میں 5.9 شدت کا زلزلہ آیا، جس میں ایک ہزار سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن گئے اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔
ریسکیو اہلکاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جیسے جیسے دور دراز علاقوں تک رسائی ممکن ہوگی، ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔