تیانجن: چینی صدر شی جن پنگ نے پیر کے روز شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ زیادہ منصفانہ عالمی نظام کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ یہ بیان چین کے شمالی بندرگاہی شہر تیانجن میں ایس سی او کی سب سے بڑی سربراہی کانفرنس کے آغاز پر دیا گیا۔
ایس سی او کے 25ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی نے “شنگھائی اسپرٹ” پر زور دیا جس کی بنیاد باہمی اعتماد، مساوات اور تعاون پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم 2001 میں چھ بانی ممالک سے بڑھ کر آج 26 رکنی پلیٹ فارم بن چکی ہے، جو ایشیا، یورپ اور افریقہ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس وقت 50 سے زائد شعبوں میں تعاون جاری ہے اور رکن ممالک کی مجموعی معیشت تقریباً 30 کھرب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
شی جن پنگ نے یاد دلایا کہ ایس سی او نے کئی تاریخی اقدامات کیے ہیں، جن میں سرحدی سلامتی پر اعتماد سازی، بیلٹ اینڈ روڈ تعاون اور طویل المدتی ہمسائیگی کا معاہدہ شامل ہے۔ ان کے مطابق، یہ اقدامات تنظیم کو ایک کامیاب کثیرالجہتی ماڈل بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا: “ہمیں مساوی اور منظم کثیر قطبیت، شمولیتی عالمگیریت اور زیادہ منصفانہ عالمی حکمرانی کو فروغ دینا چاہیے۔”
چین کی مالی و ترقیاتی امداد
چینی صدر نے اعلان کیا کہ چین اس سال ایس سی او ممالک کو دو ارب یوان (تقریباً 281 ملین ڈالر) کی گرانٹ فراہم کرے گا جبکہ آئندہ تین برسوں میں ایس سی او انٹربینک کنسورشیم کے ذریعے 10 ارب یوان کے اضافی قرض بھی فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ، 100 چھوٹے مگر نمایاں عوامی فلاحی منصوبے، 10 لوبان ووکیشنل ٹریننگ ورکشاپس اور 10 ہزار افراد کے لیے تربیتی مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔
انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی وسیع مارکیٹوں کو بروئے کار لائیں اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر، سبز صنعتوں، ڈیجیٹل اکانومی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں۔ شی نے مزید کہا کہ انسداد منشیات مرکز، سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کا مرکز فعال کیا جائے اور ترقیاتی بینک قائم کیا جائے تاکہ اقتصادی اور سلامتی دونوں پہلو مضبوط ہوں۔
عالمی جنوبی کی یکجہتی
اس سربراہی اجلاس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، روس کے ولادیمیر پوتن، بھارت کے نریندر مودی اور وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی، جو عالمی جنوبی کی یکجہتی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
روسی صدر پوتن نے اس موقع پر یوکرین جنگ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحران مغربی مداخلت کا نتیجہ ہے، نہ کہ روسی اقدامات کا۔ انہوں نے چین اور بھارت کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت بھی کی۔
چین کا عالمی متبادل وژن
ماہرین کے مطابق بیجنگ اس اجلاس کو مغربی اداروں جیسے نیٹو کے متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے، تاکہ ایک ایسا ماڈل سامنے لایا جائے جو عالمی جنوبی کے مفادات کی عکاسی کرے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اجلاس کے نام اپنے پیغام میں چین کے کردار کو “کثیرالجہتی کے تحفظ میں بنیادی” قرار دیا۔
چین اور بھارت کی قربت
دو روزہ اجلاس میں چین اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کی جھلک بھی نظر آئی۔ مودی اور شی نے تجارتی تعلقات کو بڑھانے اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک حریف نہیں بلکہ ترقی میں شراکت دار ہیں۔
اپنے اختتامی خطاب میں صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ایس سی او ممالک کو متحد رہنا ہوگا، اختلافات پسِ پشت ڈال کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ تنظیم کی پائیدار ترقی ممکن بنائی جا سکے۔ ان کے مطابق: “چین کی ترقی ہمیشہ ایس سی او کے رکن ممالک کی بہتر زندگی کی خواہشات سے ہم آہنگ رہے گی۔”