دریاؤں میں بلند پانی کے بہاؤ کے باعث خطرہ برقرار، ممکنہ شگاف اور انخلا کی کارروائیاں جاری

لاہور/اسلام آباد: پنجاب پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے خبردار کیا ہے کہ دریاؤں میں مسلسل بلند بہاؤ کے باعث سیلاب کا خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں۔ محکمے کے مطابق کسی بھی وقت حفاظتی شگاف ڈالنے جیسے اقدامات ضروری ہوسکتے ہیں تاکہ نچلے اضلاع کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کٹھیا نے بتایا کہ ہیڈ تریموں فی الحال محفوظ ہے تاہم سیلابی ریلہ اب ملتان کے ہیڈ محمد والا کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ہیڈ سدنائی اپنی گنجائش کے قریب ہے اور دباؤ کم کرنے کے لیے یہاں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیڈ قادرآباد پر بروقت شگاف ڈالنے سے نچلے اضلاع پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملی۔

محکمے کے مطابق دریائے چناب کا پانی منگل تک ملتان پہنچے گا جہاں یہ دریائے راوی کے بہاؤ سے مل جائے گا۔ شاہدرہ سے گزرنے والا ریلہ سدنائی تک پہنچ چکا ہے جبکہ مائی صفورہ بند میں بھی آج رات شگاف ڈالا جاسکتا ہے۔ احتیاطی اقدام کے طور پر 20 سے 24 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبہ ممکنہ “سپر فلڈ” کے لیے تیاریاں کر رہا ہے، تاہم پنجند پر پانی کی اصل آمد کا اندازہ 4 ستمبر کی سہ پہر کے بعد لگایا جا سکے گا۔ ان کے مطابق تریموں سے نکلنے والا پانی تین دن میں پنجند پہنچے گا جہاں ستلج اور راوی کے بہاؤ کے ساتھ ملے گا۔ اس کے بعد گڈو بیراج پر صورتحال واضح ہوگی۔ مراد شاہ نے 2014 کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت تریموں پر 592,000 کیوسک پانی ریکارڈ ہوا تھا جبکہ اس سال 550,000 کیوسک کی بلند سطح دیکھی گئی ہے۔

قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) نے یکم سے 3 ستمبر تک کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔ ستلج میں غیرمعمولی 253,068 کیوسک پانی بہہ رہا ہے اور اوپر کے علاقوں میں بارشوں و ڈیموں کے اخراج کے باعث مزید 300,000 کیوسک شامل ہوسکتا ہے۔ راوی میں بہاؤ 60,094 کیوسک ہے جو آئندہ دنوں میں 150,000 کیوسک تک پہنچ سکتا ہے۔

علاوہ ازیں دریائے چناب میں بھی غیرمعمولی اضافہ متوقع ہے، جبکہ جموں توی، مناوار توی اور پالکھو سمیت چھوٹی ندی نالوں میں شدید سیلابی کیفیت کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلابوں سے ملک بھر میں 819 افراد جاں بحق اور 1,111 زخمی ہوئے، جبکہ 8,658 مکانات کو نقصان پہنچا۔

ادھر پیر کے روز اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلا دھار بارش کے باعث واسا نے ایمرجنسی نافذ کر دی۔ نالہ لئی میں کاتاریان کے مقام پر پانی کی سطح 13 فٹ اور گوالمنڈی میں 4 فٹ تک پہنچ گئی۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے جھنگ میں فیلڈ ہسپتال اور ریلیف کیمپس کا دورہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، ادویات اور علاج معالجے کی سہولتوں کا جائزہ لیا اور انتظامی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ مقامی افراد کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا، جبکہ ایک معمر خاتون نے ان کی صحت کے لیے دعائیں دیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں