ایس سی او رہنماؤں نے تیانجن اعلامیہ منظور کرلیا، 2035 تک کا لائحہ عمل طے

تیانجن، چین : شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 25ویں سربراہی اجلاس کا اختتام تیانجن اعلامیہ کے اجراء کے ساتھ ہوا، جسے رکن ممالک کے سربراہان نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ یہ اعلامیہ آئندہ دہائی کے لیے تنظیم کی حکمتِ عملی طے کرتا ہے اور اس میں خطے میں امن، سلامتی اور مشترکہ ترقی کے فروغ پر زور دیا گیا ہے۔

اعلامیہ میں ’’شنگھائی اسپرٹ‘‘ کی بنیادی اقدار یعنی باہمی اعتماد، مساوات، ثقافتی تنوع کا احترام اور مشترکہ ترقی کی جستجو کو از سر نو اجاگر کیا گیا۔ رہنماؤں نے زور دیا کہ یہ دستاویز خطے کو درپیش غیر یقینی حالات میں سیاسی، معاشی اور سلامتی کے شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گی۔

اعلامیہ کی اہم نکات

تیانجن اعلامیہ میں رکن ممالک نے دہشت گردی، انتہا پسندی، ماحولیاتی تبدیلی، توانائی کے بحران اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال جیسے عالمی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اہم بات یہ ہے کہ اعلامیہ میں بھارت کے پیش کردہ وژن ’’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘‘ کو بھی شامل کیا گیا، جسے بین الاقوامی تعاون کی علامت قرار دیا گیا۔

دستخط شدہ اضافی دستاویزات

اجلاس کے دوران تیانجن اعلامیہ کے ساتھ مزید 20 اہم دستاویزات پر بھی اتفاق کیا گیا، جن میں شامل ہیں:

ایس سی او کی 2035 تک کی ترقیاتی حکمتِ عملی

انتہا پسندانہ نظریات کے انسداد کا پروگرام (2026 تا 2030)

توانائی تعاون کی حکمتِ عملی 2030 تک

ڈیجیٹل اکانومی اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں مشترکہ بیانات

سبز صنعت اور پائیدار سرمایہ کاری کا فریم ورک

مزید برآں، لاؤس کو ڈائیلاگ پارٹنر کا درجہ دیا گیا جبکہ ایس سی او کو دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (CIS) میں مبصر کا درجہ بھی حاصل ہوا۔

انسانی ہمدردی اور دہشت گردی کی مذمت

اعلامیہ میں انسانی ہمدردی کا پہلو بھی شامل تھا۔ رہنماؤں نے دہشت گردی کے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے حالیہ پہلگام حملے کی شدید مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔

مستقبل کی سمت

ماہرین کے مطابق تیانجن اعلامیہ ایس سی او کو محض سلامتی پر مرکوز پلیٹ فارم سے نکال کر ایک وسیع البنیاد فورم میں تبدیل کرنے کی طرف بڑا قدم ہے، جس میں سیاست، معیشت، ماحولیات اور سماجی ترقی سب شامل ہیں۔

2035 تک کا یہ لائحہ عمل رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کے حقیقی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ممالک کس حد تک باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے قدم بڑھاتے ہیں۔

فی الحال، تیانجن اعلامیہ خطے کے لیے ایک نیا سنگِ میل ہے جو شنگھائی تعاون تنظیم کو زیادہ فعال اور عالمی سطح پر مربوط بنانے کی سمت اشارہ کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں