گلگت: بے مثال موسمیاتی آفات اور دیگر عوامل کے باعث اس سال گلگت بلتستان میں غیر ملکی اور ملکی سیاحوں کی آمد میں شدید کمی واقع ہوئی ہے، جس سے مقامی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق، بین الاقوامی تنازعات، قدرتی آفات اور دیگر مسائل نے پورے خطے میں سیاحت کو 90 فیصد تک متاثر کیا ہے۔ انگریزی اخبار کے نمائندے جمیل نگری کی خصوصی رپورٹ کے مطابق
گلگت بلتستان کے محکمہ سیاحت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ساجد حسین نے بتایا کہ اس سال صرف 270 غیر ملکی کوہ پیما گلگت بلتستان آئے، جن کا مقصد کے ٹو، براڈ پیک، گاشربرم ون، گاشربرم ٹو اور نانگا پربت جیسی چوٹیاں سر کرنا تھا، جبکہ پچھلے سال یہ تعداد دو ہزار سے زائد تھی۔
انہوں نے کہا کہ شدید موسمی حالات کی وجہ سے زیادہ تر کوہ پیما اپنی مہم مکمل کیے بغیر ہی واپس لوٹ گئے۔ چٹانوں کے گرنے، برفانی تودوں اور تیز ہواؤں نے انہیں اپنی مہمات ترک کرنے اور بیس کیمپ سے ہی وطن واپسی پر مجبور کر دیا۔
محکمے کے مطابق، اس سیزن میں صرف 40 کوہ پیما کے ٹو کی چوٹی پر پہنچ سکے، 25 نے نانگا پربت سر کی، جبکہ تقریباً ایک درجن نے گاشربرم ون کو سر کیا۔
محکمہ سیاحت گلگت بلتستان کے ڈائریکٹر اقبال حسین نے ڈان کو بتایا کہ گزشتہ سال بغیر اجازت نامے کے 24 ہزار غیر ملکی سیاح گلگت بلتستان آئے تھے، جبکہ دس لاکھ کے قریب ملکی سیاح بھی آئے تھے۔ اس سال، انہوں نے کہا، صورتحال نہایت تشویشناک ہے کیونکہ غیر ملکی اور ملکی دونوں اقسام کے سیاحوں کی آمد میں 90 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ٹور آپریٹر اصغر علی پورک نے کہا کہ غیر ملکی مہم جو سیاحوں کی تعداد میں اس شدید کمی کی کئی وجوہات ہیں۔ “محکمہ سیاحت گلگت بلتستان اور ٹور آپریٹرز کے درمیان پرمٹ فیس میں اضافے پر جاری قانونی تنازعہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ، اور پہاڑوں پر غیر متوقع موسمی حالات — یہ تمام عوامل غیر ملکی کوہ پیماؤں اور ٹریکرز کو اپنی منصوبہ بند مہمات منسوخ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔”
شاہراہ قراقرم پر چائے کے ایک ڈھابے کے مالک نے کہا کہ سیاحت کا سیزن عموماً مئی سے اکتوبر تک ہوتا ہے، لیکن “میں نے کبھی ایسی صورتحال نہیں دیکھی جہاں پورا دن گزر جائے اور ایک بھی گاہک نہ آئے، اور خالی ہاتھ گھر واپس جانا پڑے۔”
ان کی طرح ہوٹل مالکان، دکاندار، ٹرانسپورٹرز، قلی اور ٹور آپریٹرز بھی مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
گلگت لومز کے مالک حیدر عباس نے بتایا کہ ان کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے، لیکن اب دکان کا کرایہ اور ملازمین کی تنخواہیں دینا مشکل ہو گیا ہے۔