پاکستان کا وژن صدر شی جن پنگ کے ترقی و خوشحالی کے فلسفے سے ہم آہنگ: وزیرِاعظم شہباز شریف

وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کی تمام کوششیں اور اقدامات چینی صدر شی جن پنگ کے وژن اور فلسفے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، جو ترقی اور عوامی خوشحالی پر مبنی ہے۔

وزیراعظم چین کے شہر تیانجن پہنچے ہیں جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس دوران ان کی صدر شی جن پنگ اور وزیرِاعظم لی چیانگ سمیت دیگر رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔

تیانجن یونیورسٹی میں طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ چین میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ اپنی محنت اور لگن سے جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سیکھیں اور پاکستان واپس آکر ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے طلبہ کو “پاک-چین دوستی کے علمبردار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نوجوان کل پاکستان کے مستقبل کے معمار ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ صدر شی کی بصیرت افروز قیادت نے چین کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور طاقت میں تبدیل کیا اور 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا، جو تاریخ کا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو بھی چین کے تجربات سے سیکھنا چاہیے تاکہ زرعی اور معاشی خوشحالی حاصل کی جا سکے۔

شہباز شریف نے پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات وقت اور آزمائشوں پر پورے اترے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان پہلا مسلم ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا اور 60 برس پہلے پی آئی اے کی پہلی پرواز کراچی سے بیجنگ گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاک-چین تعلقات اتنے ہی قدیم ہیں جتنے ریشم کے راستے اور اتنے ہی گہرے ہیں جتنے گندھارا، ٹیکسلا اور بیجنگ کے مذہبی و ثقافتی رشتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ قائم رہیں گے چاہے کتنے ہی چیلنجز کیوں نہ آئیں۔

ایس سی او اجلاس کے موقع پر وزیرِاعظم نہ صرف علاقائی سیکیورٹی، پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی تعاون پر بات کریں گے بلکہ چینی صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے۔ بیجنگ میں وہ پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب بھی کریں گے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاک-چین تعلقات کی ایک نئی جہت کا آغاز ہے، جس میں سی پیک فیز ٹو کے باضابطہ آغاز پر بھی بات ہوگی۔ یہ مرحلہ صنعتی تعاون پر مرکوز ہوگا اور دونوں ممالک کی “ہر موسم کی اسٹریٹجک شراکت داری” کو مزید گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں