درخت لگائیں، ڈیم بنائیں، پاکستان بچائیں

پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کرنے والا سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے. اس کے باوجود نہ ہماری توجہ اس جانب جاتی ہے نا ہی بیرونی دنیا ہماری اس چیخ و پکار کو سنجیدہ لے رہی ہے.وطن عزیز کا شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہو جو موسم کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہا ہو. کشمیر ہو یا گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا ہو یا بلوچستان، اور اب پنجاب ہو یا سندھ سب ہی اسکی لپییٹ میں ہیں یا آئندہ آنیوالے چند روز میں کھلے پانی کا شکار نہ ہو.یہ بات بھی درست ہے کہ ندیوں اور دریاوں میں پڑے پھتر پانی کے انڈے تصور کئے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ پانی نہ صرف ان انڈوں سے ملنے آتا ہے بلکہ بہتا پانی اپنا راستہ بھی خود ہی بنا لیتا ہے.کشمیر، جی بی اور خیبرپختونخوا کے بالائی علاقے جنگلات کی بےدریغ کٹائی، اور ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہو گئے. پنجاب میں بھی حکومتوں کی نااہلی، منصوبوں میں کرپشن اورترقی کے نام پر زمینوں کے ساتھ ہونیوالے کھلواڑ نے ہماری صرف دیہی علاقے بلکہ شہری آبادیوں کو تباہی کی جانب دھکیل دیا ہے.پنجاب میں مریم سرکار کی دن رات کی تگ و دو اپنی جگہ لیکن موسمی حالات اور سیلابی صورتحال حکومت کے زمہ داران کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے.وزیر اعلی مریم نواز اور انکی دست راست سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب جو بیک وقت جنگلات، ماحولیات،پلاننگ اور خصوصی اقدامات کے قلمدان اپنے پاس رکھتی ہیں، انہیں سب کام چھوڑ کر موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے کے اقدامات پر توجہ دینا ناگزیر ہ ہو چکا ہے. بات ہو رہی تھی راوی اور دیگر بپھرے ہوئے دریاو کی،،،لیکن پنجاب کی تباہی شاید سندھ کی تباہی کے آگے بہت چھوٹی لگے ابھی جو تفصیلات اکھٹی کی گئی ہیں اس نے تو پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے
پنجاب میں تباہی پھیلانے کے بعد اب اگلے
چند دنوں میں یہ سارے دریا بیاس، ستلج، راوی اور جہلم کا بڑا ریلا چناب کے ذریعے پنجند پہنچے گا اور پھر سندھ میں شامل ہوگا۔ ان سب دریاؤں کے پانی کا کل حجم 18 لاکھ کیوسک ہوگا ، سمجھیں ایک سمندر آرہا ہے سندھ میں جو کسی بھی بیراج کی برداشت سے شاید باہر ہو جائے گا ۔
سندھ کے بیراجوں کی گنجائش کا اندازہ لگائیں تو
گدو بیراج: 12 لاکھ کیوسک
سکھر بیراج: 9 لاکھ کیوسک
کوٹری بیراج: 8.75 لاکھ کیوسک ہے
اب سوال یہ ہے کہ جب ریلا 18 لاکھ کیوسک کا ہوگا تو یہ پانی کہاں جائے گا؟
صاف ظاہر ہے کہ یہ بیراج برداشت نہیں کر سکیں گے اور نتیجہ تباہی کی صورت میں نکلے گا۔
اصل جرم کس کا ہے؟

*عثمان خان/صدر پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن*
یہاں اصل تلخ حقیقت یہ ہے کہ قوم پرستی کے کفر نے سب کو مروایا ہے. یہی سندھ کے سیاستدان اور قوم پرست عناصر ہیں جو ہر دفعہ ڈیم بننے کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔
یہی لوگ نہروں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں بھی یہی لوگ سڑکوں پر نکلے، وکیلوں نے بھوک ہڑتال کی اور دباؤ ڈال کر حکومت سے نہریں نکالنے کا فیصلہ واپس کروا لیا۔
یعنی پانی کو سنبھالنے کے انتظامات خود انہی کی ضد کی نذر ہو جائیں گے۔
اب نتیجہ سامنے ہے!
اب وہی پانی جو ڈیموں اور نہروں کے ذریعے قابو کیا جا سکتا تھا، سیدھا سندھ کے شہروں، کھیتوں اور بیراجوں پر ٹوٹ پڑے گا۔اور سندھ میں رہنے والے غریب عوام کے گھروں کھیتوں َور کھلیانوں میں تباہی مچائے گا.
اب یہ شور مچانے والے، ہر منصوبے کو “پنجاب دشمنی” اور “قومیت پرستی” کا رنگ دینے والے اپنی ہی ہٹ دھرمی کا خمیازہ بھگتیں گے۔
یاد رکھیں!
ڈیم اور نہریں صرف پنجاب کے لیے نہیں، پورے پاکستان کے لیے زندگی اور تحفظ ہیں۔
لیکن جب ان منصوبوں کی راہ میں قومیت پرستی کا کفر،سیاست اور انا حائل کر دی جائے تو نتائج توقع کے برعکس ہی نکلتے ہیں.
اب سندھ تیار رہے
یہ ریلا آ رہا ہے، نہریں ہیں نہیں ، ڈیم موجود نہیں
اب جنہوں نے ہر دفعہ ترقی اور تحفظ کے منصوبوں کو سبوتاژ کیا تھا، اور سیاسی ضد کا نتیجہ اب سندھ کے غریب لوگ ایک بار پھر بھگتنے والے ہیں۔ہم سب کو مل کر اپنی تمام تر توجہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے، موسمی حالات کی بہتری کے اقدامات ، جنگلات کے پھیلاو اور پیسے بنانے کی لالچ میں آبی گزرگاہوں کے قریب کنکریٹ کے جنگل بنانے سے اجتناب نہ کیا تو قدرتی آفات اور تباہی کوئی نہیں روک سکے گا. غیر معمولی بارشوں اور سیلابی صورتحال نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں سیر سیاحت کے شعبے کو. بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے. ایک رپورٹ کے مطابق آئندہ آنیوالے سالوں میں موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنیں گی.ہمیں ڈیمز کی تعمیر پر جنگی حالات اور سرمایہ لگانے کی اشد ضرورت ہے اگر ہم نے خود کو ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہ کیا تو ہمیں تباہی اور بربادی سے کوئی نہیں بچا سکے گا.
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے آمین
علامہ محمد اقبال نے کہا تھا ۔۔۔
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میں
یہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کر
زمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں
نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤ گے ۔۔۔۔۔۔
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں!!!

اپنا تبصرہ لکھیں