چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اب خطے میں امن و استحکام کے تحفظ اور رکن ممالک کی ترقی و خوشحالی کو فروغ دینے کی “بڑی ذمہ داری” اٹھا رہی ہے۔ وہ اتوار کی شام تیانجن میں استقبالیہ عشائیے سے خطاب کر رہے تھے، جہاں تنظیم کا سالانہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔
اس اجلاس میں وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے رہنما شریک ہیں، جسے بیجنگ عالمی جنوب (Global South) کی یکجہتی کا مظاہرہ قرار دے رہا ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، صدر شی نے کہا کہ یہ اجلاس تمام رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے کو مضبوط کرنے اور باہمی تعاون کے لیے نئی توانائی فراہم کرنے کا ایک اہم مشن ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے یہ اجلاس کامیاب ہوگا اور ایس سی او خطے میں اتحاد اور ترقی کے لیے مزید مؤثر کردار ادا کرے گا۔
تیانجن میں ہونے والا یہ اجلاس ایس سی او کی تاریخ کا سب سے بڑا اجلاس قرار دیا جا رہا ہے، جہاں آئندہ دہائی کے لیے تنظیم کی ترقیاتی حکمتِ عملی سمیت کئی اہم دستاویزات منظور کی جائیں گی۔
صدر شی نے کہا کہ تیانجن چین کے اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسیوں کا ایک نمایاں مرکز ہے اور اس شہر میں اجلاس کے انعقاد سے ایس سی او کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کو نئی توانائی ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایس سی او “بین الاقوامی تعلقات کے ایک نئے ماڈل کی تعمیر اور انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کی برادری کے قیام میں ایک اہم قوت” بن چکی ہے۔