راولپنڈی: اڈیالہ جیل انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے میڈیکل معائنے، فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں اور جیل اسپتال میں موجود وسائل سے متعلق تفصیلی رپورٹ انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی میں جمع کرا دی ہے۔
یہ رپورٹ عمران خان کی بہن علیمہ خانم کی درخواست کے جواب میں پیش کی گئی، جس میں انہوں نے سابق وزیراعظم کے مکمل طبی معائنے کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی۔
سماعت کے دوران اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جس میں قید کے آغاز سے اب تک عمران خان کے صحت سے متعلق تمام ریکارڈ کو 27 اگست 2025 تک کے میڈیکل آفیسر کی بک کی بنیاد پر شامل کیا گیا۔ عدالت نے سماعت بدھ تک ملتوی کر دی۔
رپورٹ کے مطابق 72 سالہ سزا یافتہ قیدی عمران احمد خان نیازی بنِ اکرم اللہ خان نیازی کا وقتاً فوقتاً راولپنڈی اور اسلام آباد کے ماہر ڈاکٹروں سے معائنہ کرایا گیا۔ ان میں کان، ناک، گلا، آنکھوں، سرجری، نیوروسرجری اور آرتھوپیڈک کے ماہرین شامل ہیں۔ ہر بار جب کنسلٹنٹس نے علاج کی سفارش کی، تو جیل اسپتال نے ہدایات کے مطابق طبی سہولت فراہم کی۔
رپورٹ میں جیل اسپتال میں دستیاب سہولتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں ای سی جی مشین، الٹراساؤنڈ مشین، ڈینٹل یونٹ، لیبارٹری، کارڈیک مانیٹر، آکسیجن سلنڈر اور پلز آکسی میٹر شامل ہیں جو مکمل فعال ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، ہولی فیملی اسپتال، بے نظیر بھٹو اسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال، تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے کنسلٹنٹس ہفتہ وار شیڈول کے مطابق جیل کا دورہ کرتے ہیں جبکہ جیل کا میڈیکل آفیسر بھی ضرورت کے تحت معائنے کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 27 اگست تک عمران خان کا بلڈ پریشر 120/70 ملی میٹر مرکری اور نبض 49 فی منٹ ریکارڈ کی گئی۔
علیمہ خانم کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی آنکھوں میں دباؤ اور دھندلاہٹ کی شکایت کرتے ہیں، اس لیے فوری طور پر خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر مکمل معائنہ کیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا کہ موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے زیرِ انتظام ڈاکٹرز پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا عمران خان کے ذاتی معالجین کو بورڈ میں شامل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹر فیصل سلطان اور راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر فواد احمد خان کے نام بھی تجویز کیے گئے ہیں۔