وزیراعظم شہباز شریف کی چین آمد، شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت؛ مودی، پیوٹن سمیت عالمی رہنماؤں کی شرکت

وزیراعظم شہباز شریف ہفتے کے روز چین کے شہر تیانجن پہنچے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 25ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس اتوار اور پیر کو منعقد ہوگا اور اس میں دنیا کے 20 سے زائد رہنما شریک ہوں گے، جسے ماہرین “گلوبل ساؤتھ” کے اتحاد کا طاقتور مظاہرہ قرار دے رہے ہیں۔

وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی موجود ہیں۔ روانگی سے قبل وزیراعظم نے اپنے دورے کو “تاریخی” قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا: “میں صدر شی جن پنگ اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کا منتظر ہوں تاکہ چین کے ساتھ ہماری ہر موسم کی تزویراتی شراکت داری کو مزید آگے بڑھا سکوں اور خطے کے دیگر اہم ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کیا جا سکے۔ ہمارا مقصد علاقائی تعاون کو فروغ دینا، کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا اور امن و خوشحالی کے مشترکہ اہداف حاصل کرنا ہے۔”

دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف 31 اگست سے یکم ستمبر تک ایس سی او کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ (CHS) کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اجلاس میں چین، بھارت، روس، پاکستان، ایران، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس کے سربراہان کے علاوہ 16 مبصر اور “مکالماتی شراکت دار” ممالک بھی شریک ہوں گے۔ ان میں منگولیا، آرمینیا، آذربائیجان، کمبوڈیا، نیپال، ترکیہ، مصر، مالدیپ اور میانمار شامل ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور کئی علاقائی و بین الاقوامی اداروں کے سربراہان بھی مدعو ہیں۔

وزیراعظم اجلاس کے دوران پاکستان کا نقطۂ نظر پیش کریں گے اور اہم علاقائی و عالمی امور پر گفتگو کریں گے، خاص طور پر اس پر کہ ایس سی او کس طرح علاقائی استحکام اور تعاون کو فروغ دے سکتا ہے۔ اس دوران وہ چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

بیجنگ میں وزیراعظم ایک فوجی پریڈ میں بھی شریک ہوں گے جو دوسری جنگ عظیم کی فتح اور عالمی اینٹی فاشسٹ جنگ کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ معروف چینی صنعتکاروں اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز سے ملاقات کریں گے اور ایک پاک–چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کا حصہ ہے اور اس دوران فیز II سی پیک (CPEC-II) پر بھی بات چیت ہوگی، جس کا باضابطہ آغاز وزیراعظم کے اس دورے کے دوران متوقع ہے۔ نئی مرحلے میں صنعتی تعاون پر توجہ دی جائے گی۔ یاد رہے کہ یہ منصوبہ تقریباً پانچ سال کی تاخیر کا شکار رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے ایکس پر کہا: “پاکستان اور چین کی ہر موسم کی اسٹریٹجک پارٹنرشپ اعتماد اور تزویراتی ہم آہنگی پر مبنی ہے۔ ہم صدر شی کی قیادت اور ان کے منصوبوں جیسے بیلٹ اینڈ روڈ اور گلوبل ڈویلپمنٹ، سکیورٹی اور سولائزیشن انیشیٹوز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو معیشتوں کو تبدیل کر رہے ہیں اور علاقائی انضمام کو تقویت دے رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ آج کی کثیر قطبی دنیا میں ایس سی او کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کیونکہ یہ پلیٹ فارم سکیورٹی، تجارت، توانائی، رابطہ کاری اور ثقافت میں تعاون کو آگے بڑھا رہا ہے۔

اس اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں جو سات سال بعد پہلی بار چین پہنچے ہیں۔ یہ دورہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چین اور بھارت کے درمیان 2020 کی سرحدی جھڑپوں کے بعد تعلقات کشیدہ رہے۔ تاہم گزشتہ سال روس میں ایک سربراہی اجلاس کے دوران صدر شی اور مودی کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک میں تعلقات میں کچھ بہتری آئی تھی۔

ادھر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی اجلاس میں شرکت کے لیے تیانجن پہنچ رہے ہیں۔ وہ اجلاس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان سے یوکرین تنازعے پر بات کریں گے۔ یاد رہے کہ ترکیہ اس سال ماسکو اور کیف کے درمیان تین دور مذاکرات کی میزبانی کر چکا ہے تاہم کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ پیوٹن ایرانی صدر مسعود پیزیشکیان سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت ہو سکے۔ یہ ملاقات ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے لیے “اسنیپ بیک” میکانزم فعال کیا ہے۔

روس اور ایران نے گزشتہ دہائی میں اپنے سیاسی، فوجی اور اقتصادی تعلقات کو مستحکم کیا ہے اور 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد ان کے تعلقات مزید قریبی ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ اجلاس نہ صرف سی پیک مرحلہ دوم کے آغاز کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ خطے کے رہنماؤں سے قریبی روابط استوار کرنے اور سفارتی تعلقات کو وسعت دینے کا بھی موقع ہے۔ مبصرین کے مطابق اس سربراہی اجلاس میں ایس سی او ایک بڑے کثیرالجہتی فورم کے طور پر اپنی حیثیت مزید مضبوط کرے گا جو رابطہ کاری، تعاون اور تنازعات کے حل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں