چین کا شمالی بندرگاہی شہر تیانجن 31 اگست سے یکم ستمبر تک شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 25ویں سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، جہاں 20 سے زائد عالمی رہنما شریک ہوں گے۔ ان میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف شامل ہیں۔
2001 میں قائم ہونے والی ایس سی او دنیا کے سب سے بڑے علاقائی فورمز میں سے ایک ہے، جس میں چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ بیلاروس حال ہی میں رکن بنا ہے جبکہ ترکی، مصر اور نیپال سمیت 16 دیگر ممالک مبصر یا مکالمہ پارٹنر کے طور پر شریک ہیں۔ یہ تنظیم مغربی اتحادوں کے متبادل کے طور پر سمجھی جاتی ہے جو سلامتی، تجارت، توانائی، رابطہ کاری اور ثقافت میں تعاون کو فروغ دیتی ہے۔
تیانجن کے لیے یہ اجلاس صرف سفارتی تقریب نہیں بلکہ اپنی اقتصادی و ثقافتی قوت دکھانے کا موقع بھی ہے۔ بحیرہ بوہائی کے کنارے واقع یہ شہر بین الاقوامی شپنگ، ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اور ہائی ٹیک صنعتوں کا اہم مرکز ہے۔ حالیہ برسوں میں تیانجن بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا دروازہ بن کر ابھرا ہے اور یہاں کثیر القومی کمپنیوں اور انوویشن زونز کے ذریعے چین کو عالمی منڈیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
شہر میں اجلاس سے قبل سخت سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ کی اپ گریڈیشن اور ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا ہے تاکہ تیانجن کی تاریخی عمارتوں اور جدید اسکائی لائن کا امتزاج اجاگر ہو۔ مقامی حکام کے مطابق یہ اجلاس تیانجن کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
ایس سی او رہنما علاقائی استحکام، اقتصادی تعاون اور کثیرالجہتی ترقی پر غور کریں گے اور تیانجن اس دوران نہ صرف میزبان بلکہ چین کے عالمی انضمام کی علامت کے طور پر بھی سامنے آئے گا۔