اسلام آباد – نائب وزیرِاعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو اعلان کیا کہ پاکستان اور آرمینیا نے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے امکان پر غور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسحاق ڈار نے آرمینیا کے وزیر خارجہ آرات میرزویان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی۔ اسحاق ڈار نے ایک بیان میں کہا:
“آرمینیا کے وزیر خارجہ آرات میرزویان اور میری آج خوشگوار گفتگو ہوئی، اور ہم نے پاکستان اور آرمینیا کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے پر غور کرنے پر اتفاق کیا۔”
پاکستان اور آرمینیا کے درمیان تاحال باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے۔ دونوں ممالک کے تعلقات زیادہ تر خطے کی جغرافیائی سیاست سے متاثر رہے ہیں۔ اسلام آباد نے ہمیشہ آذربائیجان کی ناگورنو کاراباخ تنازع میں حمایت کی ہے اور باکو کے مؤقف کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حال ہی میں آذربائیجان اور آرمینیا نے امریکہ کی ثالثی میں ایک امن معاہدہ کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعاون کی راہیں کھول سکتا ہے۔
ناگورنو کاراباخ تنازع 1980 کی دہائی کے آخر میں شروع ہوا جب آرمینیائی اکثریت والے اس پہاڑی علاقے نے آذربائیجان سے علیحدگی اختیار کی۔ تاہم 2023 میں آذربائیجان نے مکمل کنٹرول حاصل کرلیا، جس کے بعد تقریباً ایک لاکھ آرمینیائی باشندے علاقہ چھوڑ کر آرمینیا منتقل ہوگئے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ “تاریخی پیش رفت” ہے جو قفقاز کے خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔ انہوں نے کہا:
“ہم صدر الہام علییف اور آذربائیجان کے عوام کو اس تاریخی معاہدے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، جس میں دانشمندی اور مستقبل بینی جھلکتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ اپنے برادر ملک آذربائیجان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آج بھی اس موقع پر ان کے ساتھ ہے۔”
انہوں نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا جن کی ثالثی سے دونوں ممالک ایک میز پر بیٹھنے اور معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ تجارت، رابطہ کاری اور علاقائی انضمام کے نئے دروازے کھولے گا۔