توانائی کے وزیر اویس لغاری کا انکشاف، نیٹ میٹرنگ آئی پی پیز سے عوام پر 4 روپے فی یونٹ اضافی بوجھ پڑے گا

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ پر مبنی آئی پی پیز قائم کیے جا رہے ہیں، تاہم اس نظام سے بجلی صارفین پر 4 روپے فی یونٹ کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ جمعہ کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اسے سنجیدگی سے حل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ صارفین بجلی کے بلوں پر 70 فیصد رعایت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں نے سولر پینل لگا کر اپنی کھپت کو 200 یونٹ سے کم کیا، جس سے ان کے بلوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “بجلی کی قیمت میں کمی آئی ہے اور بلوں میں فرق واضح ہے، جو لوگ اس کمی کو نہیں دیکھ رہے وہ آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے ہیں۔”

سیاسی بھرتیوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ “ہمارے خلاف سیاسی بھرتیوں کا الزام نہیں لگایا جا رہا، لوگ اقتدار کے لیے جنگ لڑتے ہیں لیکن ہم نے کمپنی کو بااختیار بنایا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کے صارفین کو خصوصی ریلیف دیا جائے گا۔

اس موقع پر لیسکو کے سی ای او نے وزیر توانائی کو 2 کروڑ روپے کا چیک پیش کیا، جو کمپنی کے ملازمین کی ایک دن کی تنخواہ سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے دیا گیا۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے قومی گرڈ کے صارفین کے لیے 50 ارب روپے کے ریلیف پیکج کی منظوری دی ہے، جو کیپٹیو پاور پلانٹس پر عائد لیوی سے جمع شدہ رقم سے فراہم کیا جائے گا۔ اویس لغاری نے کہا کہ سولرائزیشن کے فروغ اور بجلی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت کی کوشش ہے کہ بجلی کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جائے اور عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں