ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع، عدالت نے یکم ستمبر تک سماعت ملتوی کر دی

لاہور: مشہور یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کو غیر قانونی جوا ایپلی کیشنز کے فروغ کے کیس میں مزید چار روز کے جسمانی ریمانڈ پر قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے حوالے کر دیا گیا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق ڈکی بھائی کو 17 اگست کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف مقدمہ NCCIA لاہور نے ریاست کی مدعیت میں درج کیا جس میں الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعات 13 (الیکٹرانک جعلسازی)، 14 (الیکٹرانک فراڈ)، 25 (سپیم)، اور 26 (اسپو فنگ) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 294-B (تجارتی مقصد کے لیے انعامی اسکیم کی پیشکش) اور 420 (فریب اور دھوکہ دہی) بھی شامل کی گئی ہیں۔

یہ مقدمہ 13 جون کو درج کی گئی ایک انکوائری سے منسلک ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ کچھ یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز مختلف جوا اور بیٹنگ ایپس کو عوام میں فروغ دے رہے ہیں تاکہ مالی فائدہ حاصل کر سکیں۔ ایف آئی آر کے مطابق ان اشتہارات کی وجہ سے عوام نے اپنی جمع پونجی ان ایپلی کیشنز میں لگائی اور مالی نقصان اٹھایا۔

ڈکی بھائی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے Binomo، 1xBet، Bet 365، B9 Game سمیت دیگر جوا ایپلی کیشنز کو فروغ دیا۔ جمعرات کو انہیں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سرکاری وکیل نے تحقیقات جاری ہونے کی بنیاد پر مزید ریمانڈ کی استدعا کی۔ ڈکی بھائی کے وکیل چوہدری عثمان علی نے اس کی مخالفت کی، تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ نے استغاثہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے چار روزہ توسیع دے دی۔

کیس کی اگلی سماعت یکم ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں