لاہور/اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف اور وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جمعرات کو پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر موجودہ صورتحال کا بھرپور مقابلہ کریں گی۔ حالیہ مون سون بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث صرف پنجاب میں اب تک کم از کم 12 افراد جان سے جا چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی کا دورہ کیا اور کشتی کے ذریعے زیرآب علاقوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کا معائنہ بھی کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں حالیہ ہفتوں میں غیر معمولی بارشیں ہوئیں جس سے راوی، چناب اور ستلج دریاؤں میں خطرناک حد تک پانی بڑھ گیا۔
مریم نواز نے کہا، “میں نے اپنی زندگی میں کبھی دریائے راوی میں اتنا پانی نہیں دیکھا۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو نقصان ناقابلِ تصور ہوتا۔” انہوں نے ریسکیو ٹیموں اور انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور بتایا کہ اب تک 50 ہزار سے زائد افراد اور ہزاروں مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
وزیراعلیٰ نے متاثرین کے لیے جاری اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فیلڈ اسپتال قائم کیے گئے ہیں اور تقریباً ایک ہزار موبائل کلینکس بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے گوردوارے سے فوری طور پر پانی نکالنے کے احکامات دیے تاکہ سکھ برادری کو سہولت مل سکے اور یقین دہانی کرائی کہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
بعد ازاں، وزیرِاعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب سے بریفنگ کے بعد کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں نے قدرتی آفات کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، اس لیے بڑے اور چھوٹے ڈیموں کی فوری تعمیر ناگزیر ہے تاکہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو۔
وزیراعظم نے کہا، “کے پی اور گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے اور اب پنجاب میں بھی سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ فوج اور صوبائی حکومت کی امدادی سرگرمیاں لائقِ تحسین ہیں۔” انہوں نے زور دیا کہ ملک کو اجتماعی طور پر وسائل پیدا کرکے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم سمیت چھوٹے ذخائر، خصوصاً چنیوٹ اور شمالی علاقوں میں، تعمیر کرنا ہوں گے۔
شہباز شریف نے فوج اور سول انتظامیہ کے باہمی تعاون کی تعریف کی اور این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کو آئندہ کے لیے مزید تیاری کی ہدایت کی۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر زور دیا جبکہ چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ میں بتایا کہ اس سال مون سون کی بارشیں ماضی کے مقابلے میں زیادہ طویل اور شدید رہی ہیں اور نقصانات کو “غیر معمولی” قرار دیا۔
وفاقی اور صوبائی قیادت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہر متاثرہ شخص تک امداد پہنچائی جائے گی اور آئندہ ہفتوں میں بحالی و معاوضے کے اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں گے۔