فاران غنی کا جسمانی ریمانڈ مزید تین روز کے لیے منظور

کراچی: کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور چنیسر ٹاؤن کے چیئرمین فاران غنی، جو صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کے بھائی ہیں، کا جسمانی ریمانڈ مزید تین دن کے لیے بڑھا دیا۔ فاران غنی کو گزشتہ ہفتے چنیسر ٹاؤن میں ایک سرکاری ملازم پر حملے اور تشدد کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کیس نے سیاسی سطح پر بھی ہلچل پیدا کی کیونکہ ملزم کا تعلق براہِ راست سندھ کی حکمران جماعت کے ایک بااثر خاندان سے ہے۔

منگل کو فاران غنی اور دیگر ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔ پراسیکیوشن نے مزید ریمانڈ کی استدعا کی جبکہ ملزم کے وکیل وقار عباسی نے وکالت نامہ داخل کیا۔ عدالت نے اس موقع پر تفتیشی افسر کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ جج نے ریمارکس دیے: “آپ نے اب تک کیا کیا ہے؟ تین دن میں کیا کریں گے جب کچھ بھی نہیں کیا گیا؟ خفیہ کتے کہاں ہیں؟ سی آئی اے اور ایس آئی یو کہاں ہیں؟” عدالت نے مزید کہا کہ تفتیشی افسران عام شہریوں کو ہراساں کرنے کے سوا کچھ نہیں جانتے۔

سماعت کے دوران “اجرک نمبر پلیٹس” کا بھی ذکر آیا، جس پر عدالت نے کہا کہ عوام درخواستیں اور فیسیں جمع کراتے ہیں لیکن پھر بھی ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ مدعی نے ابھی تک گواہ پیش نہیں کیے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “اگر مدعی گواہ پیش نہیں کر رہا تو کیا آپ اس کے ملازم ہیں؟”

دلائل سننے کے بعد عدالت نے فاران غنی اور دیگر ملزمان کو 30 اگست تک پولیس کے حوالے کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ہر صورت میں تفصیلی پیش رفت رپورٹ جمع کرائی جائے۔

یہ کیس اس وقت سیاسی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مخالف جماعتیں الزام لگا رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی اپنے رہنماؤں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دفاعی وکلاء کا مؤقف ہے کہ یہ مقدمہ سیاسی انتقام کے تحت بنایا گیا ہے۔ اگلی سماعت میں یہ واضح ہوگا کہ تفتیشی ادارے کس حد تک شواہد اکٹھے کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں