اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ڈرون کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کے ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ سنگین جرم ہے اور ضمانت دینے کی صورت میں ملزم فرار ہو سکتا ہے۔
دو رکنی بینچ جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل تھا۔ اے این ایف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے قبضے سے 10 کلو ہیروئن اور ایک ڈرون برآمد ہوا جبکہ اس کیس میں پنجاب پولیس کا ایک اہلکار بھی شامل پایا گیا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ آج کل ڈرون کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی جا رہی ہے، پاکستان سے بھارت میں منشیات پھینکی جاتی ہیں اور اس دھندے میں کئی بااثر شخصیات ملوث ہیں۔
ملزم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ضمانت دی جائے، تاہم جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ پہلے ٹرائل کورٹ کی کارروائی مکمل ہونے دیں۔ بعد ازاں عدالت نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
پس منظر کے طور پر بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کی سرحد پر ڈرون کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کے متعدد کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق یہ طریقہ کار تیزی سے عام ہو رہا ہے اور اس میں مقامی و بین الاقوامی نیٹ ورکس ملوث ہیں، جبکہ اس سے قومی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔