اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر قومی اسمبلی کی قائمہ اور پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفوں کے معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ پارٹی کے کئی اراکین نے کمیٹیوں سے استعفیٰ دینے کو سیاسی طور پر نقصان دہ اور غیر ضروری قرار دیا ہے جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے استعفوں پر زور دیا جا رہا ہے۔
پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سمیت اپوزیشن کے 18 ارکان پہلے ہی اپنے استعفے اسپیکر قومی اسمبلی آفس میں جمع کرا چکے ہیں۔ استعفیٰ دینے والوں میں امجد علی خان، صبزادہ صبغت اللہ، محبوب شاہ، جنید اکبر، گوہر علی خان، شہزادہ گستاسپ، علی جدون، مجاہد علی، ملک انور تاج، فضل محمد خان، ساجد خان، ارباب عامر ایوب، آصف خان، وقاص اکرم شیخ، ارشد صاحب، عامر ڈوگر، شبیر علی قریشی اور اویس جھکڑ شامل ہیں۔ اسپیکر آفس نے ان استعفوں کی وصولی کی بھی تصدیق کر دی ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی ارکان پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفے دینے کے فیصلے سے متفق نہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کمیٹیوں کے پلیٹ فارم کو چھوڑ دینا اپوزیشن کے لیے نقصان دہ ہو گا، کیونکہ یہ فورمز حکومتی پالیسیوں پر مؤثر تنقید اور عوامی مسائل اٹھانے کا واحد ذریعہ ہیں۔ بعض اراکین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کو تنقیدی محاذ پر کھلا میدان دینا اپوزیشن کی کمزوری تصور ہو گا۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی میں ماضی میں بھی استعفوں کی حکمت عملی متنازع رہی ہے۔ 2022 میں قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفے دینے کے بعد بھی کئی ارکان نے ذاتی یا سیاسی وجوہات کی بنا پر اپنے استعفے واپس لے لیے تھے یا فعال سیاست جاری رکھی تھی، جس سے پارٹی میں اختلافات نمایاں ہوئے تھے۔ اب ایک بار پھر کمیٹیوں سے استعفوں کے معاملے پر اختلافات سامنے آنے سے یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت اور ارکان کے درمیان اعتماد کا خلا بڑھ رہا ہے۔
پارلیمانی مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی اس تقسیم سے حکومت کو وقتی سیاسی ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف ہے کہ مشاورت کے بعد تمام ارکان کو اعتماد میں لیا جائے گا اور جلد ہی ایک متفقہ پالیسی سامنے لائی جائے گی۔