اسلام آباد/پشاور – پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکانِ قومی اسمبلی نے پارٹی کے بانی عمران خان کی تازہ ہدایت پر قومی اسمبلی کی مختلف قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دینا شروع کر دیے ہیں۔ یہ اقدام پارٹی کی اُس وسیع تر سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں آنے والے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی شامل ہے۔
پارٹی کے متعدد اراکین نے اپنی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ ایم این اے علی اصغر نے کابینہ، نجکاری اور منصوبہ بندی کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا، جبکہ ساجد خان نے اوورسیز پاکستانی، نیشنل ہیریٹیج اور کشمیر امور کی کمیٹیوں سے دستبرداری اختیار کی۔ ساجد خان نے یہاں تک کہا کہ اگر عمران خان نے کہا تو وہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیں گے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے بھائی فیصل امین خان نے اقتصادی امور، فوڈ سکیورٹی اور پارلیمانی ٹاسک فورس کی کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا۔ شاہد خٹک نے اعلان کیا کہ وہ تمام قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت چھوڑ رہے ہیں، جبکہ آصف خان نے تعلیم، نیشنل ہیریٹیج، ثقافت اور اطلاعات و نشریات کی کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا۔
اسی دوران، جُنید اکبر نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دے دیا اور پارٹی کے چیف وہپ عامر ڈوگر کو استعفیٰ جمع کرا دیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کو علی اصغر اور فیصل امین خان کے استعفے موصول ہو چکے ہیں۔
پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے بھی قومی اسمبلی کی تمام قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دیتے ہوئے اپنا استعفیٰ اسپیکر ایاز صادق کو بھجوا دیا ہے۔
دوسری جانب، عمران خان نے پارٹی قیادت کو عدالتی کمیشن سے بھی الگ ہونے کی ہدایت دی ہے، اور کہا ہے کہ اس فورم پر پی ٹی آئی کی شمولیت “غیر مؤثر” ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان اور سینیٹر علی ظفر کو اس کمیشن سے علیحدگی کی ہدایت دی گئی، تاہم اطلاعات کے مطابق بیرسٹر گوہر نے فی الحال مستعفی ہونے کی تردید کی ہے۔
یہ تازہ اقدام پی ٹی آئی کی اس حکمتِ عملی کی یاد دلاتا ہے جو اس نے 2023 میں اختیار کی تھی، جب اُس وقت کی پی ڈی ایم حکومت کے خلاف احتجاج کے طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں تحلیل کر دی گئی تھیں۔
پی ٹی آئی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اُن ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی جو اُن نشستوں پر ہوں گے جہاں پارٹی ارکان کو 9 مئی کے واقعات کے مقدمات میں نااہل قرار دیا گیا۔ پی ٹی آئی نے ان نااہل ارکان کو اپنا “اصل نمائندہ” قرار دیتے ہوئے بائیکاٹ کو سیاسی انتقام کے خلاف احتجاج سے جوڑا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے حال ہی میں 9 مئی کے واقعات کے مقدمات میں سزا یافتہ ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے کئی ارکان کو نااہل قرار دیا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد نشستیں خالی ہوئیں۔ دوسری جانب، حکومتی اتحادی جماعتوں — مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی — نے اعلان کیا ہے کہ وہ یہ ضمنی انتخابات ملک بھر میں مشترکہ طور پر لڑیں گی، جس سے سیاسی مقابلے کا ایک نیا مرحلہ شروع ہونے جا رہا ہے۔