خیبر پختونخوا حکومت نے پلاسر گولڈ نیلامی میں بے ضابطگیوں پر اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے دریائے کابل اور دریائے سندھ کے کنارے پلاسر گولڈ بلاکس کی نیلامی میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے انکشافات کے بعد مکمل اور اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ صوبائی کابینہ نے یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیرِ صدارت اجلاس میں کیا۔

کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری معدنیات نے انکشاف کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے سونے کی کان کنی کے عمل میں سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے جن میں جعلی یا ناقص فزیبلٹی رپورٹس، ریزرو پرائس کے تعین میں بے ضابطگیاں، این او سی حاصل نہ کرنا، ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی، پارے کا خطرناک استعمال، لیسز کو غیر قانونی طور پر سب لیٹ کرنا اور آمدنی و فروخت کے ریکارڈ جمع نہ کروانا شامل ہیں۔

سیکرٹری معدنیات نے کابینہ کو تجویز دی کہ سونے کی نیلامی کے عمل کو فوری طور پر معطل کر کے تفصیلی تحقیقات کرائی جائیں۔ تاہم کابینہ نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ فوری انکوائری شروع کی جائے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، انکوائری کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کی سربراہی وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے انسدادِ کرپشن بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی کریں گے۔ کمیٹی میں صوبائی انسپکشن ٹیم کے چیئرمین، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اور محکمہ مائنز کے ریٹائرڈ انجینئر فضل رزاق شامل ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کرے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، کمیٹی نیلامی کے پورے عمل کا تفصیلی جائزہ لے گی جس میں فزیبلٹی رپورٹس سے لے کر نیلامی کے انعقاد تک تمام امور شامل ہوں گے۔ کمیٹی یہ بھی جانچے گی کہ ضلعی انتظامیہ اور سرکاری افسران کی غفلت یا ملی بھگت کس حد تک اس عمل میں شامل رہی۔

اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت نے دریائے سندھ کے کنارے صوابی، نوشہرہ اور کوہاٹ میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت تمام غیر قانونی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ کان کنی میں استعمال ہونے والی مشینری، آلات اور گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ نیب نے قبل ازیں اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی تھی کہ پلاسر گولڈ نیلامیوں میں بدعنوانی کے باعث قومی خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ صوبائی حکومت نے اس سنگین معاملے پر شفاف تحقیقات اور اصلاحاتی اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں