گلگت بلتستان (جی بی) کے ضلع غذر میں حالیہ برفانی جھیل پھٹنے سے بننے والی جھیل سکڑ کر تقریباً 40 فٹ رہ گئی ہے اور اب قریبی آبادیوں کو کوئی فوری خطرہ نہیں، حکومت کے ترجمان نے اتوار کو تصدیق کی۔
گلیشیائی جھیل پھٹنے کے واقعے (گلاف) سے مراد ایسی صورتحال ہے جب جھیل کا پانی اچانک خارج ہو کر نشیبی علاقوں میں شدید سیلابی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کی صبح غذر کی وادی گوپس کے گاؤں تلی داس میں پیش آیا۔ ایک مقامی چرواہے کی بروقت اطلاع کے باعث دو سو کے قریب افراد کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔
جی بی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراقی نے کہا: “فی الحال جھیل سے کوئی خطرہ نہیں۔” ان کے مطابق ابتدا میں جھیل سے غذر، گلگت اور دیامر کے نشیبی علاقے متاثر ہونے کا خدشہ تھا، تاہم صورتحال قابو میں آچکی ہے۔
واقعے کے نتیجے میں 330 خاندان یعنی 3 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوگئے، جنہیں انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے جی بی کوآرڈینیٹر اسرارالدین اسرار نے 2010 کے عطا آباد واقعے کے بعد دوسرا بڑا بے دخلی کا سانحہ قرار دیا۔ متاثرین کو عارضی خیمہ بستیوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار احمد مرزا بذاتِ خود آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ادھر تین چرواہوں کو ہیرو قرار دیا گیا ہے جن کی بروقت اطلاع سے “300 انسانی جانیں بچ گئیں۔” وزیرِاعظم سیکریٹریٹ نے ان چرواہوں کو اسلام آباد بلایا ہے جہاں امکان ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف ان سے ملاقات کریں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ ان میں روشَن گاؤں کے وصیت خان بھی شامل ہیں جنہوں نے موبائل فون کے ذریعے برفانی جھیل پھٹنے کی اطلاع دی۔ دوسرے چرواہے ناصر نے غذر کے دین گاؤں میں چھ افراد کو بچایا جبکہ علی احمد نے گوجال کے گلگت میں پچاس رضاکاروں کی جان بچائی۔ خراب موسم کے باعث ان کی پرواز منسوخ ہوئی تاہم وہ سڑک کے ذریعے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔ وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان نے بھی چرواہوں کے لیے نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان خوراک، پینے کے صاف پانی اور بنیادی سہولتوں کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ جی بی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ذاکر حسین نے کہا ہے کہ ماہرین کی ٹیم نے جھیل سے پانی کے محفوظ اخراج کے لیے جامع ایس او پیز تیار کر لی ہیں تاکہ آبادی اور انفراسٹرکچر کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
انتظامیہ کے مطابق گلگت-شندور روڈ کی عارضی بحالی کے لیے متبادل راستے پر کام جاری ہے اور 48 گھنٹوں میں آمدورفت بحال ہونے کی توقع ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے بھی مستقل بحالی کے لیے بھاری مشینری روانہ کر دی ہے لیکن یہ کام علاقے کی مٹی کے استحکام پر منحصر ہے۔
ادھر گلگت بلتستان میں نئی بارشوں کے سلسلے نے مزید گلاف کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث استور ویلی روڈ، شگر کا کے ٹو روٹ، گانچھے کی سڑکیں اور ہنزہ و غذر کے کئی اہم راستے بند ہوگئے ہیں۔ متاثرہ افراد پینے کے پانی اور کھیتی باڑی کے لیے آبپاشی نظام کی تباہی سے مزید مشکلات کا شکار ہیں۔
محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے گلیشیائی علاقوں میں مزید گلاف، فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کا انتباہ جاری کیا ہے۔ 23 اگست سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے جس سے متاثرہ علاقوں میں مزید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
گلگت کے ایک شہری ذوالفقار علی نے کہا کہ “اب تو ہلکی بارش بھی خوفزدہ کر دیتی ہے۔ ہمارے خطے نے پہلے کبھی ایسے سانحات نہیں دیکھے، لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔”