ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا تاریخی دورہ ڈھاکا پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں “نئے دور” کا آغاز

ڈھاکا: پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کے روز بنگلہ دیش کے تاریخی دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو “نئی توانائی اور تجدید شدہ شراکت داری کے دور” سے تعبیر کیا۔ یہ گزشتہ 13 برسوں میں کسی پاکستانی وزیرِ خارجہ کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ برس اگست میں عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسلام آباد اور ڈھاکا کے تعلقات میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اس دوران تجارتی تعاون میں اضافہ ہوا اور دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں روابط میں وسعت پیدا ہوئی۔

اسحاق ڈار دو روزہ سرکاری دورے پر ہفتے کو ڈھاکا پہنچے۔ پاکستانی ہائی کمیشن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان “خلوص نیت” کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے اور تمام طبقات — حکومت، سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی، میڈیا اور نوجوان نسل — کے ساتھ مل کر امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کے لیے کام کرنے پر پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب دنیا تیزی سے تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور خطہ ماحولیاتی تبدیلی، معاشی غیر یقینی صورتحال، عالمی عدم مساوات اور سلامتی کے خطرات جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ “ہمیں کراچی سے چٹاگانگ اور لاہور سے ڈھاکا تک نوجوانوں کو یکجا کر کے ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں،” ڈار نے زور دیا۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ گزشتہ برس کے دوران دوطرفہ تعلقات میں خوش آئند پیش رفت ہوئی ہے۔ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ بحال ہوا، تجارتی و تعلیمی تعاون بڑھا، ثقافتی تبادلے ہوئے اور مختلف شعبوں میں باہمی اشتراک کے امکانات میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ ان کے بقول، “مختصراً کہا جائے تو آج ہمارے تعلقات نئی توانائی اور ولولے سے بھرپور ہیں۔”

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کئی علاقائی اور عالمی معاملات پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں، خاص طور پر سارک (SAARC) کی بحالی پر۔ ڈار نے کہا کہ جنوبی ایشیا جو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کا گھر ہے، خطے کے تعاون میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ “ہم امید رکھتے ہیں کہ سارک دوبارہ فعال ہوگا اور ہمارے فاصلے کم ہوں گے۔”

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات محض سیاسی نوعیت کے نہیں بلکہ صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، اسلامی ورثے، سماجی اقدار، لسانی رشتوں اور ادبی روایتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ “تاریخی اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستانی عوام کے دلوں میں بنگلہ دیشی عوام کے لیے ہمیشہ برادرانہ جذبات اور احترام موجود رہا ہے،” ڈار نے کہا۔

اپنے دورے کے دوران اسحاق ڈار نے نیشنل سٹیزن پارٹی، جماعتِ اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی تازہ صورتحال، ثقافتی تبادلوں اور نوجوانوں کے روابط پر بات چیت ہوئی۔

دفترِ خارجہ کے مطابق اس دورے کے دوران تجارت، ثقافت، میڈیا، تربیت اور سیاحت کے شعبوں میں 4 سے 5 معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ دونوں ممالک نے رواں برس سرکاری سطح پر چاول کی تجارت اور براہِ راست پروازوں کی بحالی جیسے اقدامات کے ذریعے عملی تعاون کا آغاز بھی کیا ہے۔

یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ 2012 کے بعد کسی پاکستانی وزیرِ خارجہ کا بنگلہ دیش کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں