اقوام متحدہ کے تحت قائم ادارہ آئی پی سی (Integrated Food Security Phase Classification) نے کہا ہے کہ غزہ شہر اور اس کے مضافات باضابطہ طور پر قحط کی لپیٹ میں ہیں اور یہ بحران جلد ہی پٹی کے دیگر حصوں تک پھیل سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں پانچ لاکھ 14 ہزار فلسطینی یعنی قریباً ایک چوتھائی آبادی قحط کا شکار ہے جبکہ ستمبر کے اختتام تک یہ تعداد چھ لاکھ 41 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ افریقہ سے باہر کسی خطے کو باضابطہ طور پر قحط زدہ قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کا ردعمل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ غزہ میں قحط “انسانی ناکامی” اور “انسانی ضمیر پر داغ” ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ بطور قابض طاقت وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور فوری طور پر خوراک اور طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین (UNRWA) کے سربراہ فلپ لزیرینی نے کہا کہ “مہینوں کی وارننگ کے باوجود دنیا نے خاموشی اختیار کی، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس قحط کو ختم کرنے کے لیے سیاسی عزم دکھایا جائے۔”
اسرائیل کا ردعمل
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے آئی پی سی رپورٹ کو “سراسر جھوٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا کوئی قحط پیدا کرنے کا منصوبہ نہیں ہے اور جنگ کے دوران بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد غزہ بھیجی گئی ہے۔
فلسطینی مؤقف
حماس نے کہا کہ یہ رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل بھوک کو “ہتھیار” کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
غزہ کی سرکاری میڈیا آفس نے کہا کہ قحط کی تصدیق اسرائیل کے خلاف “جنگی جرائم” کا ثبوت ہے اور عالمی برادری کو مداخلت کرنی چاہیے۔
فلسطینی اتھارٹی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید تاخیر کے بغیر کارروائی کی جائے تاکہ فلسطینی عوام کو بچایا جا سکے۔
عالمی ردعمل
سعودی عرب اور کویت نے اسرائیلی پالیسی کو کھلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
جی سی سی (خلیجی تعاون کونسل) نے کہا کہ اسرائیل فوری طور پر امدادی سامان کی فراہمی کی راہ ہموار کرے۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے غزہ میں قحط کو “انسانی المیہ” اور “اخلاقی جرم” قرار دیا۔
ریڈ کراس، آکسفام، اسلامی ریلیف اور مرسی کورپس سمیت بین الاقوامی اداروں نے کہا کہ یہ قحط اسرائیل کی محاصرے کی پالیسی اور امداد کی راہ میں رکاوٹوں کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
بین الاقوامی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور آزادانہ امداد کی فراہمی ممکن نہ بنائی گئی تو مزید ہزاروں زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔