برطانیہ کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 1.33 ملین پاؤنڈ کی امداد کا اعلان

اسلام آباد — برطانیہ نے پاکستان میں مون سون بارشوں سے ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 1.33 ملین پاؤنڈ (تقریباً 6 ارب روپے) کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ امداد پنجاب، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے سات اضلاع میں سیلاب سے متاثرہ 2 لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد کی بحالی اور ریلیف سرگرمیوں پر خرچ کی جائے گی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق برطانیہ کی امداد کے تحت خشک راشن، ریسکیو آپریشنز، موبائل میڈیکل کیمپس، پینے کے پانی کے نظام کی بحالی، آبپاشی کے ذرائع کی مرمت اور زرعی و معاشی سرگرمیوں کی بحالی کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ “برطانیہ کے تعاون سے متاثرہ علاقوں میں اہم امداد پہنچ رہی ہے۔ قومی و صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر برطانیہ پاکستان کی ڈیزاسٹر رسپانس اور ریزیلینس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔”

اس پروگرام کے تحت ملک کے حساس اضلاع میں 2,400 رضاکاروں کو ریسکیو آپریشنز کی تربیت دی گئی ہے، جبکہ چارسدہ کے 25 رضاکار بونیر میں ریسکیو 1122 کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ ملبے تلے دبے یا لاپتہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔

متاثرہ علاقوں میں جہاں صحت کے مراکز تباہ ہو گئے ہیں وہاں موبائل میڈیکل کیمپس قائم کیے جا رہے ہیں۔ بے گھر خاندانوں کو خوراک، غیر خوراکی اشیا، شیلٹر کے سامان اور خواتین کے لیے ڈگنٹی کٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔

دریں اثنا، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی ہمدردی (UNOCHA) کے ضلعی کوآرڈینیٹر سوات اور بونیر میں امدادی کاموں کو مربوط بنا رہے ہیں تاکہ متاثرین تک امداد مؤثر انداز میں پہنچ سکے۔

گزشتہ ایک ہفتے میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں درجنوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق صرف خیبر پختونخوا میں گزشتہ جمعرات سے اب تک 400 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں مزید 11 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ مجموعی طور پر مون سون سیزن میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 750 ہو گئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں