ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی ضمانت کے بعد سائبر کرائم ایجنسی میں پیش

لاہور – معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی بدھ کے روز نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے دفتر میں پیش ہوئیں۔ وہ اپنے شوہر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مبینہ طور پر جوا اور بیٹنگ ایپس کی تشہیر سے متعلق مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے کے بعد پیشی کے لیے حاضر ہوئیں۔

ایڈیشنل سیشن جج ظفریاب نے 30 اگست تک ان کی گرفتاری سے روک دیا اور پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔ ان کی وکیل ایڈووکیٹ چوہدری عرفان فیض کلاڑ نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ عروب جتوئی تحقیقات میں شامل ہونا چاہتی ہیں لیکن گرفتاری کا خدشہ تھا۔

ایجنسی نے، جو پہلے ہی ڈکی بھائی کو اپنی تحویل میں رکھے ہوئے ہے، عروب جتوئی کو تفتیش کا حصہ بناتے ہوئے 20 اگست کو لاہور کے گلبرگ-II دفتر میں طلب کیا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایک روز قبل بھی بلایا گیا تھا جہاں دو گھنٹے غیر قانونی طور پر روک کر ان کا موبائل فون بھی قبضے میں لیا گیا۔ بدھ کو ریکارڈ شدہ بیان میں ان سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ پوچھ گچھ کی گئی۔

سعد الرحمٰن کو 17 اگست کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا اور عدالت نے انہیں 23 اگست تک سائبر کرائم ایجنسی کے ریمانڈ پر دے دیا ہے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے یوٹیوب چینل پر Binomo، 1xBet، Bet365 اور B9 Game سمیت مختلف جوا کھیلنے والی ایپس کو فروغ دیا۔ مقدمہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کی متعدد دفعات بشمول جعلسازی، فراڈ، اسپیم اور اسپورفنگ کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 420 اور 294-B کے تحت درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق یوٹیوبرز اور دیگر سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی ان سرگرمیوں کے باعث عوام نے اپنی جمع پونجی ان ایپس میں لگائی اور مالی نقصان اٹھایا۔ یہ تحقیقات جون 2025 میں موصول ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر شروع کی گئی تھیں۔

عروب جتوئی اور سعد الرحمٰن نے 2022 میں شادی کی تھی جبکہ 2024 میں دونوں کو سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش کرنے پر پولیس نے حراست میں لیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں