اسلام آباد: ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو اپنے چینی ہم منصب وانگ ژی سے ملاقات کو ’’ثمر آور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے وسیع امور پر جامع بات چیت کی ہے۔
اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، سیکیورٹی تعاون بڑھانے اور سی پیک منصوبوں کو تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی “آہنی دوستی” کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور خطے میں امن و خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے پاکستان کے استحکام اور ترقی کے لیے بیجنگ کی بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ چین انفراسٹرکچر، تجارت اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ دونوں رہنماؤں نے کابل میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ساتھ حالیہ سہ فریقی مذاکرات کے نتائج پر بھی تبادلہ خیال کیا، جہاں تینوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے، تجارت اور ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق کیا۔
اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے چھٹے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد
جمعرات کو چینی وزیر خارجہ وانگ ژی وزارتِ خارجہ اسلام آباد پہنچے جہاں ان کا استقبال ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان-چین چھٹے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کی۔ یاد رہے کہ پانچواں ڈائیلاگ مئی 2024 میں بیجنگ میں اسی جوڑی نے مشترکہ طور پر چیئر کیا تھا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وانگ ژی اپنے قیام کے دوران صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ گزشتہ شب اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں وانگ ژی کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا: “اپنے عزیز دوست، وزیر خارجہ چین وانگ ژی کا پاکستان آمد پر خیر مقدم کرتے ہیں، کل ڈائیلاگ اور اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں میں ثمر آور بات چیت ہوگی۔”
پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری ہے جو تجارت، توانائی، دفاع اور انفراسٹرکچر سمیت کئی شعبوں پر محیط ہے۔ گزشتہ ماہ دونوں ممالک نے سی پیک کے دوسرے مرحلے (CPEC-II) کے تحت تعمیراتی انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، زراعت اور مہمان داری کے شعبوں میں مشترکہ تربیتی پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف رواں ماہ کے آخر میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کے لیے بیجنگ جائیں گے، جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے بھی متوقع ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یہ دورہ سی پیک II کے باضابطہ آغاز کا موقع ہوگا، جس کا مرکز صنعتی تعاون ہے اور جو تقریباً پانچ سال کی تاخیر کے بعد شروع کیا جا رہا ہے۔