کراچی: شہر قائد میں منگل کی طوفانی بارشوں کے بعد بدھ کو بجلی کی فراہمی بڑی حد تک بحال ہوگئی تاہم متعدد سڑکیں اور انڈرپاس اب بھی زیرِ آب رہے۔ بارش سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہوگئی ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے سندھ اور بلوچستان میں مزید موسلا دھار بارشوں کی وارننگ دے دی ہے۔
منگل کی شدید بارشوں نے کراچی کے کمزور انفراسٹرکچر کو مفلوج کر دیا۔ برساتی نالے اور نکاسی آب کا نظام جواب دے گیا، کئی علاقوں میں کمر تک پانی جمع ہوگیا اور بجلی و انٹرنیٹ کی خدمات گھنٹوں معطل رہیں۔ کاروباری و صنعتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سندھ حکومت نے بدھ کو شہر میں عام تعطیل کا اعلان کیا۔
بدھ کو دوبارہ بارش اور الرٹ جاری
بدھ کی دوپہر ساڑھے دو بجے کے بعد صدر، ملیر، اسکیم 33، گلستانِ جوہر بلاک 2، آئی آئی چندریگر روڈ، کالا پل اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج کے اطراف دوبارہ بارش ہوئی۔ سہ پہر تین بجے محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کرتے ہوئے آئندہ چند گھنٹوں میں شہر کے بیشتر حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی۔ شہریوں کو احتیاط اور غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیا گیا۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “بارش متوقع ہے، عوام سے گزارش ہے کہ غیر ضروری نقل و حرکت سے پرہیز کریں اور بارش کی صورت میں جہاں ہیں وہیں رک جائیں۔” سندھ محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر نے بھی پیش گوئی کی کہ آئندہ بارشیں گزشتہ روز سے زیادہ شدید ہوسکتی ہیں۔
بجلی کی صورتحال اور بحالی کا عمل
کے الیکٹرک کے ترجمان عمران رانا کے مطابق بدھ کی سہ پہر تک شہر کے 2100 فیڈرز میں سے 2000 سے زائد فعال تھے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی پانی اترے گا اور گراؤنڈ ٹیموں سے کلیئرنس ملے گی، باقی علاقوں میں بھی بجلی بحال کردی جائے گی۔ ترجمان نے شہریوں سے درخواست کی کہ بجلی کے کھمبوں اور تنصیبات سے دور رہیں اور ہنگامی صورتحال میں 118 پر رابطہ کریں۔
ٹریفک مسائل اور سڑکوں کی بندش
کراچی ٹریفک پولیس نے اطلاع دی کہ شاہراہِ فیصل کے قریبی انڈرپاسز، ناظم آباد نمبر 1 اور 2، لیاقت آباد نمبر 10، غریب آباد اور سہراب گوٹھ انڈرپاسز زیرِ آب ہیں۔ کورنگی کراسنگ اور ای بی ایم کاز وے پر بھی ٹریفک معطل رہی۔ پولیس نے شہریوں کو متبادل راستے استعمال کرنے اور ہیلپ لائن 1915 پر رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔
میئر وہاب نے سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز شیئر کیں جن میں شاہراہِ پاکستان، شیر شاہ سوری روڈ اور سب میرین انڈرپاس جیسے اہم راستے کھلے دکھائے گئے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ کئی مقامات پر اب بھی نکاسی کا کام جاری ہے۔
حکومتی و امدادی سرگرمیاں
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بارش کی صورتحال پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ 26 ڈی واٹرنگ پمپس تعینات کیے گئے ہیں اور ریسکیو ٹیمیں ہائی الرٹ پر ہیں۔ انہوں نے شارع فیصل اور نرسری کا دورہ کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ “یہ کہنا غلط ہے کہ شہر ڈوب گیا اور انتظامیہ غیر حاضر تھی۔ سندھ حکومت اور بلدیاتی عملہ مسلسل کام کر رہا ہے۔”
پاک فوج بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ پی ٹی وی کے مطابق فوجی اہلکاروں نے متعدد گاڑیوں کو نکالا اور بزرگ شہریوں و بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
ہلاکتیں اور حادثات
ریسکیو 1122 نے دو مزید ہلاکتوں کی تصدیق کی، جس سے تعداد آٹھ ہوگئی۔ گرومندر کے قریب نالے میں بہہ جانے والے ایک شخص کی لاش ملی، جبکہ ڈیفنس فیز 5 میں ایک نوجوان موٹر سائیکل سوار کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا۔ رنچھوڑ لائن میں ایک پرانی عمارت کا حصہ گرنے سے ایک مرد اور خاتون زخمی بھی ہوئے۔
منگل کو بارش کے دوران گلستانِ جوہر میں مکان کی دیوار گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ اورنگی ٹاؤن میں ایک بچہ اور ڈیفنس میں ایک نوجوان کرنٹ لگنے سے چل بسا تھا۔
ریسکیو اہلکاروں نے پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 میں ایک کال سینٹر میں پھنسے 30 ملازمین سمیت متعدد شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
بارش کی شدت اور اعداد و شمار
محکمہ موسمیات کے مطابق منگھوپیر میں 12 گھنٹوں میں 235 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جو نکاسی نظام کی گنجائش سے کئی گنا زیادہ ہے۔ گلشنِ حدید میں 178 ملی میٹر، کیماڑی میں 173 ملی میٹر، جناح ٹرمینل پر 156 ملی میٹر اور نارتھ کراچی میں 149 ملی میٹر بارش ہوئی۔
شدید بارشوں نے شارع فیصل، ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ کو دریا کا منظر بنا دیا۔ درجنوں گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں اور شہری کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی پروازیں تاخیر کا شکار یا متبادل اڈوں کی جانب موڑ دی گئیں۔
ماہرین کا انتباہ اور موسمیاتی خطرات
میئر وہاب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کراچی کی بارشوں نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ “موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے۔ آپ تنقید ضرور کریں، مگر یہ چیلنج دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے مشکل ہے۔” انہوں نے کہا کہ شہر کے نالے صرف 40 ملی میٹر پانی سنبھال سکتے ہیں جبکہ کل بارش اس سے کئی گنا زیادہ تھی۔
مزید بارشوں کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مون سون ہوائیں پاکستان کے جنوبی حصوں میں داخل ہو رہی ہیں۔ آئندہ دنوں میں کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، تھرپارکر اور میرپورخاص سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں مزید موسلادھار بارشوں کا امکان ہے۔ بلوچستان کے گوادر، کیچ، پنجگور، خضدار اور لسبیلہ میں بھی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ کراچی سمیت سندھ کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خدشہ ہے، لہٰذا ضلعی اور صوبائی انتظامیہ ہائی الرٹ رہے۔