بونیر: وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران خبردار کیا کہ مزید شدید بارشوں کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف کے پی میں 350 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 700 سے بڑھ گئی ہے اور درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔
وزیر اعظم نے بونیر میں متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جنوبی وزیرستان اور مانسہرہ کے سانحات نے ’’ہر پاکستانی کی آنکھیں نم کر دی ہیں۔‘‘ انہوں نے ہدایت دی کہ ایک ہفتے کے اندر ٹوٹے ہوئے پل اور سڑکیں بحال کی جائیں جبکہ بجلی بھی اسی مدت میں بحال کی جائے گی چاہے بل ادا ہوئے ہوں یا نہیں۔ انہوں نے متاثرین کے لیے سات دن مفت بجلی دینے اور امدادی چیک تقسیم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
وزیر اعظم نے قدرتی آبی گزرگاہوں پر ہوٹلوں اور گھروں کی تعمیر کو ’’سنگین غلطی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ درختوں کی کٹائی اور بے قابو کان کنی نے سیلاب کی تباہ کاریوں کو بڑھایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ ایسی خلاف ورزیوں پر کوئی معافی نہیں ہوگی اور سخت پالیسی اپنائی جائے گی۔
شہباز شریف نے یاد دلایا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران وفاقی حکومت نے 100 ارب روپے ریلیف کے لیے فراہم کیے تھے اور آج بھی تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’قومی بحران کے وقت سیاست نہیں ہونی چاہیے‘‘ اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ فوج دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے ساتھ ساتھ ریلیف آپریشنز میں بھی پیش پیش ہے۔ وزیر اعظم نے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ افسران پوری لگن سے عوام کی مدد کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے پاکستان کو دنیا کے دس سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں شامل قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مزید بارشیں متوقع ہیں اور آئندہ آفات سے بچنے کے لیے جنگلات کے تحفظ اور اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔