اسلام آباد: سیدپور ماڈل ولیج میں وسیع پیمانے پر انسدادِ قبضہ آپریشن کے دوران حکام نے 200 سے زائد غیر قانونی تعمیرات مسمار کر دیں اور نیشنل پارک کی 191 کنال زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرالی۔ کئی عمارتیں، جو برسوں سے بغیر کرایہ دیے قابضین کے زیر استعمال تھیں، بھی خالی کرا لی گئیں۔ یہ کارروائی 2005 کے بعد قبضے میں لی گئی 360 کنال زمین پر ہونے والی تمام غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا امتیاز کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خود سیدپور ماڈل ولیج کا دورہ کر کے آپریشن اور علاقے میں جاری اپ گریڈیشن و خوبصورتی کے کاموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سی ڈی اے اور ڈی ایم اے حکام کو ہدایت کی کہ غیر قانونی ڈھانچوں کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جائے اور خالی ہونے والی زمین شفاف طریقے سے نیلام کی جائے۔
نقوی نے سی ڈی اے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیدپور کے گردونواح سے غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی کراچی اور لاہور کے معروف ریسٹورنٹس کو سیدپور لایا جائے گا تاکہ گاؤں کی دلکشی میں اضافہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سیدپور کی بحالی اسلام آباد کے حسن کو بڑھائے گی اور شہریوں کو نیا تفریحی مقام فراہم کرے گی۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ سیدپور کو بین الاقوامی معیار کا سیاحتی و تجارتی مرکز بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور علاقے کی صفائی کو یقینی بنایا جائے گا۔
بریفنگ کے دوران چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے وزیر کو بتایا کہ 2005 کے بعد کی غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کے لیے سیٹلائٹ امیجری استعمال کی جا رہی ہے، جبکہ سیدپور کے سبز حصے کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر سی ڈی اے کے سینئر ارکان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (ADCG)، ایس ایس پی آپریشنز اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔