اسحاق ڈار کابل میں سہ فریقی مذاکرات کے لیے پہنچ گئے، وانگ ای 21 اگست کو اسلام آباد آئیں گ

کابل/اسلام آباد — ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار منگل کو پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے چھٹے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے کابل پہنچ گئے۔

کابل آمد پر ان کا استقبال افغانستان کے نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد نعیم، پاکستان کے سفیر عبیدالرحمٰن نظامانی اور اعلیٰ افغان حکام نے کیا۔ اجلاس میں تجارت، علاقائی رابطے اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔ اسحاق ڈار افغان نگران وزیر خارجہ امیر خان متقی سے دوطرفہ ملاقات بھی کریں گے۔

دوسری جانب دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای 21 اگست کو اسلام آباد پہنچیں گے جہاں وہ ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ چھٹے پاک-چین وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کا حصہ ہے جس کا مقصد ’’ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون‘‘ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

ملاقاتوں میں بنیادی قومی مفادات پر باہمی حمایت، اقتصادی و تجارتی تعلقات میں اضافہ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون پر زور دیا جائے گا۔ وانگ ای اپنے قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔ ان بات چیت میں سی پیک کی پیش رفت، اقتصادی تعاون، دفاعی تعلقات اور علاقائی سلامتی کے امور شامل ہوں گے۔

یہ وانگ ای کا گزشتہ برس بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا، جو حال ہی میں بیجنگ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی ملاقات کے بعد مزید مضبوط ’’آہنی تعلقات‘‘ کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے دورے کے فوراً بعد پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کا سہ فریقی اجلاس کابل میں متوقع ہے۔ امکان ہے کہ اسحاق ڈار بھی وانگ ای کے ہمراہ امیر خان متقی سے ملاقات کریں گے، تاہم اسلام آباد بھی متبادل مقام کے طور پر زیر غور ہے۔ اس اجلاس کے ایجنڈے میں علاقائی استحکام اور افغانستان سے متعلق پاکستان کے سکیورٹی خدشات شامل ہوں گے۔

حکام کے مطابق بیرونی دباؤ کے باوجود کئی ہفتوں کی بات چیت کے بعد تینوں فریقین نے اجلاس پر اتفاق کیا ہے، جسے علاقائی تعاون کو آگے بڑھانے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وانگ ای کا یہ دورہ خطے کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ نئی دہلی کے دورے کے فوراً بعد اور وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ چین کے دورے سے پہلے ہورہا ہے، جہاں وہ اس ماہ تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں