کراچی میں موسلا دھار بارش، چھ افراد جاں بحق، مزید بارشوں کی پیش گوئی

کراچی میں موسلا دھار بارش کے باعث چھ افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ منگل کو ہونے والی شدید بارش نے شہر کے بیشتر حصوں کو متاثر کیا، سڑکیں زیرِ آب آگئیں اور ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گُلسِتانِ حدید میں سب سے زیادہ 145 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ ائیرپورٹ اولڈ ایریا، کیماڑی، جناح ٹرمینل، یونیورسٹی روڈ، ڈیفنس، سرجانی، نارتھ کراچی اور دیگر علاقوں میں بھی بھاری بارش ہوئی۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق گلستانِ جوہر میں مکان کی دیوار گرنے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ملبے تلے دب گئے، جن میں سے چار جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک زیرِ علاج ہے۔ اورنگی ٹاؤن میں مکان کی دیوار گرنے سے آٹھ سالہ بچہ جاں بحق ہوا جبکہ نارتھ کراچی میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص زندگی کی بازی ہار گیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور تمام ضلعی انتظامیہ، لوکل باڈیز، ٹریفک پولیس اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی۔ سندھ کے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو فیلڈ میں موجود رہنے کا حکم دیا اور نچلے علاقوں سے پانی کی فوری نکاسی کی ہدایات جاری کیں۔

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) نے شہر میں بارش ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور تمام محکموں کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ریسکیو اور ایمرجنسی سیلز قائم کرنے کے احکامات جاری کیے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہواؤں کے سبب سندھ اور بلوچستان میں 22 اگست تک وقفے وقفے سے شدید بارشیں جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران کراچی، حیدرآباد، تھرپارکر، بدین، سجاول سمیت مختلف اضلاع میں شہری سیلاب اور بلوچستان کے کچھ حصوں میں طغیانی کے خدشات ہیں۔

کے الیکٹرک کے مطابق بارش کے دوران حفاظتی اقدامات کے تحت کچھ علاقوں میں بجلی معطل کی گئی ہے، تاہم صورتحال بہتر ہوتے ہی بجلی بحال کی جائے گی۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور بجلی کے کھمبوں سمیت خطرناک مقامات سے دور رہیں۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی گورنر ہاؤس میں ایمرجنسی سیل قائم کر دیا ہے جو 24 گھنٹے متاثرین کی مدد کے لیے فعال رہے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مشکل وقت میں شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں