کراچی – پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے منگل کو 1,50,000 پوائنٹس کی حد عبور کر لی، جب کہ مثبت معاشی پیش گوئیوں اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دیا۔
بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,574 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 149,770.74 پر بند ہوا، جو گزشتہ روز کے 148,196.42 سے 1.06 فیصد زیادہ تھا۔ دورانِ کاروبار انڈیکس بلند ترین سطح 150,323.38 پوائنٹس تک گیا (2,126 پوائنٹس یا 1.44 فیصد اضافہ) جبکہ کم ترین سطح 148,293.94 پوائنٹس ریکارڈ کی گئی، جو پھر بھی 97 پوائنٹس زائد رہی۔
ماہرین کے مطابق میوچل فنڈز کی جانب سے بڑھتی ہوئی لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاروں کا درمیانی مدت کا رجحان مارکیٹ کو سہارا دے رہا ہے۔ آزاد ماہر معاشیات اے اے ایچ سومرو نے کہا: “مارکیٹ کی ریٹنگ دوبارہ طے ہو رہی ہے، اور کافی سرمایہ درمیانی مدت کے تناظر میں لگایا جا رہا ہے۔”
سرمایہ کاروں کے اعتماد کو اس وقت مزید تقویت ملی جب عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 2024 میں 2.5 فیصد سے بڑھا کر 2027 تک 3.5 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی۔ فچ نے اپریل 2025 میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو ‘CCC+’ سے بڑھا کر ‘B-’/مستحکم کر دیا تھا۔ اس سے قبل موڈیز بھی پاکستان کی ریٹنگ کو ‘Caa2’ سے بڑھا کر ‘Caa1’ کر چکا ہے۔
دوسری جانب، حکومت کی ٹاسک فورس برائے توانائی نے بڑھتے ہوئے گیس سرکلر قرض (جو اس وقت 2,600 ارب روپے ہے) میں کمی کے لیے پانچ سالہ منصوبہ پیش کیا۔ اس منصوبے میں فی لیٹر پیٹرول پر 5 روپے لیوی لگا کر 500 ارب روپے اکٹھے کرنا، سرکاری آئل و گیس کمپنیوں سے 500 ارب روپے منافع لینا اور قطر سے دو ایل این جی کارگوز عالمی مارکیٹ میں بھیج کر سالانہ 500 ارب روپے حاصل کرنا شامل ہیں۔
پٹرولیم ڈویژن کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق ان اقدامات سے 1,500 ارب روپے کے قرض میں کمی آئے گی جبکہ باقی 1,100 ارب روپے (جو زیادہ تر سرچارجز اور سود پر مشتمل ہیں) ریلیف یا رعایتوں کے ذریعے ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
گزشتہ روز بھی کے ایس ای-100 انڈیکس 1,704 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 148,196 پر بند ہوا تھا اور دن بھر میں 148,395 پوائنٹس تک جا پہنچا تھا۔