حماس نے 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی، اسرائیل کا جواب تاحال باقی

قطر ؛ قطر نے تصدیق کی ہے کہ حماس نے غزہ میں نئی جنگ بندی تجویز کو مثبت جواب دیا ہے، جس میں 60 روزہ جنگ بندی، قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ، اور محصور علاقے میں امداد میں اضافہ شامل ہے۔ یہ تجویز قطر اور مصر کی مشترکہ کوششوں کا حصہ ہے جسے موجودہ جنگ کے دوران سب سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، اسرائیل کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق، یہ تجویز تقریباً ویسی ہی ہے جیسی امریکی مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے مئی کے آخر میں پیش کی تھی۔ الجزیرہ کے مطابق منصوبے میں اسرائیلی افواج کو غزہ میں اپنی پوزیشن تبدیل کرنے، فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی یرغمالیوں کے تبادلے اور امدادی سامان میں اضافے کی شقیں شامل ہیں۔ تاہم، اس تجویز اور اس سے قبل ناکام ہونے والی تجویز میں فرق کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔

اگرچہ حماس نے اس تجویز کو منظور کر لیا ہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت تل ابیب اس جزوی تبادلے سے مطمئن نہیں اور اس بات پر زور دے رہی ہے کہ غزہ میں موجود تمام 50 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو کسی بھی معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ مصر نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس منصوبے پر آمادہ کرے، جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ بات چیت جاری ہے۔

اس دوران غزہ میں انسانی المیہ بدستور سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ مقامی حکام نے الجزیرہ کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 60 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ خان یونس میں بے گھر افراد کے خیموں پر بمباری میں آٹھ افراد جبکہ دیر البلح میں ایک اور حملے میں چار فلسطینی مارے گئے۔ شمالی غزہ کے جبالیا علاقے میں بھی شدید حملے جاری ہیں۔

خان یونس میں پناہ گزین فلسطینیوں نے اس تجویز پر ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا۔ عبداللہ الخواجہ کا کہنا تھا کہ “ہر بار قبضہ مخالف اور منفی رویہ اپناتا ہے، مجھے اس بار بھی یہی توقع ہے۔” تاہم اواد لبدا نے امید ظاہر کی کہ “بطور ایک بے گھر فلسطینی، میں اسرائیل سے مثبت جواب کی توقع رکھتا ہوں۔”

مغربی کنارے میں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ فلسطینی خبررساں ایجنسی وفا نے اطلاع دی کہ اسرائیلی فوج نے طولکرم کے 21 سالہ طالب علم طارق عصمت ہاشمہ کو عناب چیک پوسٹ سے گرفتار کیا۔ اسی دوران نابلس کے جنوب میں اسرائیلی آبادکاروں نے عقبہ کے قریب ایک نیا غیرقانونی چوکی نما ٹھکانہ قائم کر لیا، جہاں خیمے اور کارواں نصب کر دیے گئے۔ ادھر الخلیل میں آبادکاروں نے ایک فلسطینی باپ اور اس کے بیٹے پر حملہ کر کے دونوں کو زخمی کر دیا۔

بین الاقوامی سطح پر سفارتی کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔ فرانس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ صدر ایمانویل میکرون کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد فرانس میں یہود مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایلیزے پیلس نے ان الزامات کو “قابل مذمت اور غلط” قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانس ہمیشہ اپنے یہودی شہریوں کا تحفظ کرے گا۔

اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ کی سرکاری میڈیا آفس کے مطابق 62 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں کم از کم 18 ہزار 885 بچے شامل ہیں۔ بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور تباہی کے باوجود جنگ بندی کا حتمی فیصلہ اسرائیل کے ردعمل پر منحصر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں