ٹوکیو/لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیر کو ہدایت دی ہے کہ صوبے میں سیوریج اور فضلہ ٹھکانے لگانے کے نظام میں جدید جاپانی ٹیکنالوجی اور طریقہ کار اپنایا جائے۔ یہ فیصلہ ان کے جاپان کے پانچ روزہ سرکاری دورے کے دوران کیا گیا، جہاں انہوں نے یورکوہاما کے سب سے بڑے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا معائنہ کیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ “پنجاب میں سیوریج اور کچرے کے انتظام کے لیے جاپان کی جدید ٹیکنالوجی اور طریقے استعمال کیے جائیں گے۔” ان کے دفتر کے مطابق انہوں نے آساہی، یورکوہاما سٹی، کاناگاوا، واشیماکو اور یودوگاوا میں ویسٹ ٹریٹمنٹ سسٹمز کا جائزہ لیا۔ حکام نے انہیں بتایا کہ کچرے کو ایک جدید اور خودکار نظام کے ذریعے ری سائیکل ہونے والے اجزاء میں الگ کیا جاتا ہے۔
جاپانی حکام نے آگاہ کیا کہ یورکوہاما، جو آبادی کے لحاظ سے جاپان کا دوسرا بڑا شہر ہے، روزانہ 15 لاکھ لیٹر گندہ پانی صاف کرتا ہے اور کئی ایسے پلانٹ چلاتا ہے جو فضلے سے توانائی پیدا کرتے ہیں، جو بعد میں مقامی آبادی کے ہیٹنگ سسٹمز میں استعمال ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شہر ہونے کے باوجود یورکوہاما ماحولیات کے اعلیٰ ترین معیارات پر عمل پیرا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں اس ماحولیاتی اور شہری ترقی کے ماڈل کو اپنایا جائے گا۔ انہوں نے یورکوہاما کے ٹاؤن ہال میں شہری ترقی پر بریفنگ میں بھی شرکت کی اور سڑکوں و عمارتوں کے معیار کو جاپان کے معیار تک لانے پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر پنجاب اور یورکوہاما کے درمیان مختلف شعبوں میں ’’سٹی ٹو سٹی‘‘ تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔
پاکستان میں ہر سال لاکھوں ٹن سالڈ ویسٹ پیدا ہوتا ہے لیکن اس میں سے صرف معمولی حصہ ہی صاف کیا جاتا ہے، جس کے باعث شہری علاقوں میں سیلاب، آبی امراض اور کالی کھانسی، ڈینگی اور پولیو جیسی قابلِ انسداد بیماریوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب ماحولیاتی گورننس میں آگے بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں صوبے میں پاکستان کی پہلی انوائرمنٹل پروٹیکشن فورس قائم کی گئی، سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی لگائی گئی اور لاہور میں 1500 سے زائد تعمیراتی مقامات پر ڈسٹ سپریشن سسٹم نصب کیے گئے ہیں۔