اسلام آباد: پاکستان اس برس کے شدید ترین مون سون سلسلے سے گزر رہا ہے جہاں مسلسل بارشوں اور طغیانی نے ملک کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے اب تک بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 657 تک جا پہنچی ہے جبکہ 920 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ بادل پھٹنے، آسمانی بجلی گرنے، مکانوں کی چھتیں گرنے اور اچانک آنے والے سیلاب نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں اجیرن بنادی ہیں۔
خیبر پختونخوا (کے پی) سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں دور افتادہ پہاڑی اضلاع خاص طور پر بونیر تباہی کے مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فائز کے مطابق اتوار تک کے اعداد و شمار میں صوبے بھر کے مختلف اضلاع سے 373 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں اکثریت بونیر سے ملی۔ حکام کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔
ادھر پیر کو نئی بارشوں نے متاثرہ آبادی کی مشکلات مزید بڑھا دیں۔ مردان اور نوشہرہ میں موسلا دھار بارش نے معمولات زندگی کو مفلوج کردیا۔ صوابی کے علاقے سرکوی پائیں میں مکان کی چھت گرنے سے دو خواتین اور دو بچے جاں بحق جبکہ سات افراد زخمی ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ خان کے مطابق ڈلوری گاؤں میں بادل پھٹنے کے نتیجے میں کئی گھر پانی میں ڈوب گئے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ نے مختلف مقامات پر راستے بند کردیئے۔
سوات کے مینگورہ اور ملاکنڈ میں بھی شدید بارش نے معمولات زندگی درہم برہم کردیئے۔ بونیر میں امدادی کارروائیاں مشکلات سے دوچار ہیں کیونکہ متاثرہ بستیوں کو ملانے والا عارضی پل ٹوٹنے کے قریب ہے۔ کرم ایجنسی کے صدر مقام پاراچنار میں ندی نالے ابل پڑے اور کرم دریا کنارے کی سڑکوں کو نقصان پہنچا۔ نوشہرہ کے چکی مامریز میں بارش کے دوران کمرے کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہوگئے۔
پشاور میں وقفے وقفے سے بارش نے شدید اربن فلڈنگ پیدا کردی۔ صدر بازار، یونیورسٹی روڈ، گل بہار، فقیر آباد اور حیات آباد سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگیں۔ گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں جبکہ گھروں اور پولیس تھانے میں بھی پانی داخل ہوگیا۔
پنجاب میں ملتان، کبیر والا، جھنگ اور خوشاب میں بارش نے جہاں گرمی سے نجات دلائی وہیں نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ چکوال کے مختلف علاقوں میں 67 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ ہوئی۔ بھکر اور میانوالی میں کئی بستیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ بلوچستان کے کئی اضلاع میں مطلع ابر آلود رہا جبکہ ژوب، مستونگ، لورالائی، خضدار اور سوبی میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے دھیر کوٹ اور پونچھ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں بھی طوفانی بارش ہوئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی قومی ذمہ داری ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں کے پی اور گلگت بلتستان کی صورتحال پر غور کیا گیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبے مل کر بحالی کے اقدامات کر رہے ہیں جبکہ فوج اور دیگر ادارے بھی سرگرم ہیں۔
محکمہ انہار کے مطابق بارشوں سے دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کالاباغ، جناح بیراج اور چشمہ بیراج میں درمیانے درجے کے سیلاب کی اطلاع دی گئی ہے۔ طوفانی پانی کے پیش نظر نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ تربیلا ڈیم 97 فیصد بھر چکا ہے جبکہ منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق مرنے والوں میں 171 بچے، 94 خواتین اور 392 مرد شامل ہیں۔ صرف کے پی میں 390 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تعداد مردوں کی ہے۔ پنجاب میں 164 اموات ہوئیں جن میں 70 بچے شامل ہیں۔ سندھ میں 28، بلوچستان میں 20، گلگت بلتستان میں 32، آزاد کشمیر میں 15 اور وفاقی دارالحکومت میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔
این ڈی ایم اے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس مون سون کی شدت گزشتہ سال سے 60 فیصد زیادہ ہے اور اگست کے اختتام تک مزید دو سے تین بارشوں کے سلسلے متوقع ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالے طغیانی کا شکار ہو رہے ہیں جس سے میدانی علاقوں میں اچانک سیلاب آ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے بارشوں کے پیٹرن کو مزید غیر متوقع بنا دیا ہے، جبکہ انسانی غلطیاں جیسے دریا کنارے تعمیرات، گندے پانی کی نکاسی میں رکاوٹ اور ندی نالوں میں کچرا پھینکنے کی عادت صورتحال کو مزید سنگین کر رہی ہیں۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ 2022 کے مون سون سیلاب نے ملک کا ایک تہائی حصہ ڈبو دیا تھا اور تقریباً 1700 افراد کو نگل گیا تھا۔