لاہور کی عدالت میں شہباز شریف کا عمران خان کے خلاف 10 ارب ہرجانہ کیس پھر مؤخر

لاہور – وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کے خلاف دائر ہتکِ عزت کے دعوے کی سماعت پیر کے روز بغیر کسی کارروائی کے مؤخر کر دی گئی۔

ایڈیشنل سیشن جج یلمز غنی نے کیس کی اگلی تاریخ 6 ستمبر مقرر کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی موسم گرما کی تعطیلات اور بار کونسل کی اپیل پر وکلاء کی ہڑتال کے باعث سماعت ممکن نہ ہو سکی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے وزیرِاعظم کو ویڈیو لنک کے ذریعے جرح کے لیے طلب کیا تھا، تاہم کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔

یہ مقدمہ 2017 میں اس وقت سامنے آیا جب شہباز شریف، جو اُس وقت پنجاب کے وزیرِاعلیٰ تھے، نے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔ یہ دعویٰ پانامہ لیکس اسکینڈل کے پس منظر میں سامنے آیا، جب عمران خان نے شہباز شریف پر بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے تھے۔

شہباز شریف کا مؤقف ہے کہ عمران خان کے یہ الزامات بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی تھے، جن سے ان کی ساکھ اور شہرت کو شدید نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق یہ بیانات دانستہ طور پر انہیں بدنام کرنے کے لیے دیے گئے۔

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں سیاسی رہنماؤں کے درمیان ہتکِ عزت کے مقدمات عام ہیں لیکن اکثر عدالتی کارروائی میں تاخیر اور سیاسی حالات کے باعث طویل عرصے تک لٹکے رہتے ہیں۔ شہباز شریف اور عمران خان کے درمیان یہ مقدمہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ براہِ راست پانامہ لیکس تنازعے سے جڑا ہے، جس نے ملکی سیاست کا نقشہ بدل دیا اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کا سبب بنا۔

کیس میں پہلے بھی متعدد بار التواء ہو چکا ہے اور دونوں رہنماؤں کی سیاسی حیثیت نے کارروائی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب تمام نظریں 6 ستمبر کی سماعت پر مرکوز ہیں کہ آیا کیس میں کوئی پیش رفت ہو پاتی ہے یا نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں