خاندان نے خودکشی کا مؤقف مسترد کر دیا، صحافی خاور حسین کی موت پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ

کراچی/حیدرآباد – صحافی خاور حسین کے اہل خانہ نے حیدرآباد روڈ، سانگھڑ کے قریب ان کی لاش ملنے کے بعد پولیس کی ابتدائی تحقیقات کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں واقعے کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔ امریکہ سے والدہ اور بھائی کے ہمراہ پاکستان پہنچنے والے والد نے اپنے بیٹے کی موت کو “سرد خون قتل” قرار دیتے ہوئے غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

“میرا بیٹا بہادر اور مضبوط ارادوں والا تھا، وہ اپنی جان نہیں لے سکتا۔ وہ خود پر گولی نہیں چلا سکتا،” خاور حسین کے والد نے حیدرآباد پہنچ کر میڈیا سے گفتگو میں کہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خاندان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی یا تنازع نہیں تھا جو ایسے کسی واقعے کا سبب بنتا۔ “یہ قتل ہے، خودکشی نہیں،” انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا۔

کراچی کے نجی ٹی وی چینل سے وابستہ خاور حسین کی لاش رواں ہفتے ان کی گاڑی سے ملی تھی۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے ان کا لائسنس یافتہ پستول برآمد ہوا اور ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے خود کو گولی مار لی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے بھی خودکشی کو موت کی ممکنہ وجہ قرار دیا۔

تاہم خاندان نے اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاور کی شخصیت اور حالات میں کسی قسم کی مایوسی یا ذہنی دباؤ کے آثار موجود نہیں تھے جو انہیں خودکشی پر مجبور کرتے۔

پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج، فنگر پرنٹس اور دیگر شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔ سینئر افسران کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور کسی پہلو کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ “جب تک فرانزک عمل مکمل نہیں ہو جاتا، کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا،” پولیس ترجمان نے کہا۔

خاور حسین کی اچانک موت نے صحافتی برادری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ صحافتی تنظیموں نے حکومت سے غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے تاکہ واقعے کو جلد بازی میں خودکشی قرار دے کر فائل بند نہ کر دی جائے۔

خاور حسین ایک بہادر اور پیشہ ور صحافی سمجھے جاتے تھے۔ ان کی المناک موت نے نہ صرف ان کے خاندان کو غمزدہ کیا ہے بلکہ پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ انصاف چاہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ شفاف تحقیقات سے یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ آیا خاور حسین نے واقعی خودکشی کی یا یہ ایک قتل تھا جسے خودکشی کا رنگ دیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں