باجوڑ: ضلع انتظامیہ نے باجوڑ کی ماموند تحصیل میں حالیہ دہشت گردی کی سرگرمیوں کے پیشِ نظر ایک ہفتے کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے تاکہ سیکیورٹی فورسز کو ہدفی آپریشن کے دوران بلا رکاوٹ کارروائی کا موقع فراہم کیا جا سکے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق کرفیو 16 اگست کی شام 5 بجے سے نافذ ہوچکا ہے اور یہ 21 اگست کی شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ خیبرپختونخوا ہوم ڈیپارٹمنٹ کی منظوری کے بعد سیکشن 144 کے تحت تمام اجتماعات، بیرونی سرگرمیوں اور سڑکوں پر نقل و حرکت کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
کرفیو سے متاثرہ 24 علاقوں میں مالنگی، سپرائی، دواوگئی، مینا سلیمان خیل، خوار چائی، چم یار جور، زگئی، گٹ، اگرا، غنڈئی، زری، نختار، ملا کلی، بکارو، گواتی، چم یالون، لرکلان، برکلان، غنم شاہ، چوطرہ، دمہ ڈولا، سلطان بیگ، انعام خورو اور ناگا شامل ہیں۔ مقامی رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری خود برداشت کرنا ہوگی۔
انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کو عسکریت پسندوں تک براہ راست رسائی حاصل ہو سکے گی۔ اطلاعات کے مطابق ماموند کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کی موجودگی پائی گئی ہے۔ یہ خطہ پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہونے کے باعث طویل عرصے سے عسکریت پسندوں کے داخلے اور نقل و حرکت کا مرکز رہا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں باجوڑ میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں پولیس اہلکاروں، قبائلی عمائدین اور سیکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسی کارروائیوں کے دوران کرفیو نافذ کرنا اس لیے ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ شدت پسندوں کی نقل و حرکت محدود ہو اور شہری نقصان سے بچ سکیں۔
عینی شاہدین کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری علاقے میں تعینات کر دی گئی ہے اور بعض دیہات میں گھر گھر تلاشی کا عمل جاری ہے۔ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ کرفیو کے دوران متاثرہ خاندانوں کے لیے خوراک اور طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
یہ تازہ کرفیو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ سابقہ کلیئرنس آپریشنز کے باوجود قبائلی پٹی میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ حکام نے زور دیا ہے کہ یہ پابندی وقتی اقدام ہے جس کا مقصد ماموند تحصیل میں امن و امان اور استحکام بحال کرنا ہے۔