آرمی چیف کی سیاسی افواہوں کی تردید، ڈی جی آئی ایس پی آر کا پیغام: دہشتگردوں کو عوامی مدد کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا

اسلام آباد/برسلز – آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر اور وزیراعظم کی تبدیلی سے متعلق حالیہ افواہوں کو بے بنیاد اور ملک و اداروں کے مخالف عناصر کی سازش قرار دیا ہے۔ ان خیالات کا انکشاف سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں کیا ہے جو برسلز میں آرمی چیف سے ملاقات کے بعد شائع ہوا۔ فیلڈ مارشل منیر گزشتہ ہفتے امریکا کے دورے کے بعد واپسی پر بیلجیئم میں رکے تھے۔

کالم کے مطابق گفتگو کا آغاز سیاسی معاملات سے ہوا جہاں صدر آصف علی زرداری کے ممکنہ استعفے اور نظام میں صدارتی طرز حکومت کی افواہوں پر آرمی چیف نے دو ٹوک کہا کہ یہ خبریں جھوٹ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروپیگنڈا کسی صورت سول و عسکری ادارے نہیں پھیلا سکتے، بلکہ ایسے عناصر کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو حکومت اور ریاستی اداروں دونوں کے مخالف ہیں اور ملک کو انتشار کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر دعوے کیے گئے تھے کہ صدر زرداری مستعفی ہو سکتے ہیں اور نئی سیاسی بساط میں بلاول بھٹو کو کلیدی کردار دیا جائے گا، تاہم ان خبروں کی تردید پہلے ہی وزیر داخلہ محسن نقوی اور عسکری ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کر چکے ہیں۔ برسلز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا: “اللہ نے مجھے ملک کا محافظ بنایا ہے، مجھے کسی اور منصب کی خواہش نہیں۔”

فیلڈ مارشل منیر نے وزیراعظم شہباز شریف کے عزم و محنت، بالخصوص مئی کے بھارتی تنازعے کے دوران ان کی مسلسل 18 گھنٹے کی مصروفیات کو سراہا اور کابینہ کی جرات کی تعریف کی۔ سیاسی مفاہمت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب کوئی مخلصانہ معافی مانگی جائے۔ اگرچہ انہوں نے کسی جماعت کا نام نہیں لیا، تاہم اشارہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کی قیادت کی جانب سمجھا جا رہا ہے جسے فوج 9 مئی کے پرتشدد واقعات کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

خارجہ تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا اور چین دونوں سے تعلقات میں توازن رکھے گا اور “کسی ایک دوست کو دوسرے پر قربان نہیں کرے گا۔” انہوں نے بھارت کو پراکسیز کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے سے باز رہنے اور افغانستان کو طالبان کو پاکستان کی جانب دھکیلنے کے نتائج سے خبردار کیا۔

ادھر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچستان سے آئے طلبہ کے ساتھ سیشن میں کہا کہ جو بھی دہشتگردوں کو پناہ یا اسلحہ فراہم کرے گا، اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ “فوج معصوم جانیں لینے کی خواہش نہیں رکھتی، کامیاب آپریشن اسی وقت ہوتا ہے جب لوگ خود دہشتگردوں کی نشاندہی کریں۔”

انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں آپریشن انٹیلی جنس پر مبنی ہے تاکہ صرف دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنایا جائے، نہ کہ پورے علاقے کو۔ انہوں نے بتایا کہ اب بلوچستان کے عوام خود آگے بڑھ کر دہشتگردوں کی نشاندہی کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ شدت پسندی سے تنگ آچکے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے میجر محمد انور کاکڑ کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے گوادر کے پی سی ہوٹل حملے میں دہشتگردوں کو ہلاک کر کے اپنی جان قربان کی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اصل بنیاد کلمہ طیبہ ہے جو لسانی اور علاقائی فرق سے بالاتر ہو کر قوم کو ایک کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں