اسلام آباد – پاکستان کے 78ویں یوم آزادی 14 اگست 2025 کو ملک کے شورش زدہ صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے مربوط حملوں کی لہر دیکھنے میں آئی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے تمام حملے پسپا کر دیے۔ سرکاری سیکیورٹی ذرائع کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 48 واقعات پیش آئے، جن میں 39 خیبر پختونخوا اور 9 بلوچستان میں ریکارڈ ہوئے۔
یہ حملے زیادہ تر خیبر پختونخوا میں پاکستانی طالبان کے مختلف دھڑوں اور بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کی جانب سے کیے گئے، جن میں پولیس چوکیوں، فوجی ناکوں اور سیکیورٹی گشت کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق کسی بھی چوکی پر قبضہ نہیں کیا جا سکا۔ مجموعی طور پر پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے 11 اہلکار شہید اور 9 زخمی ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں ہونے والے 56 فیصد حملے صوبے کے جنوبی اضلاع میں ہوئے، جو طویل عرصے سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس کے اتحادی گروپوں کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے یوم آزادی کی علامتی اہمیت سے فائدہ اٹھا کر بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرنے کی کوشش کی، تاکہ اپنی موجودگی ظاہر کر سکیں اور ریاستی رٹ کو چیلنج کر سکیں۔
ابتدائی انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق 14 اگست کو مجموعی طور پر کیے گئے 57 فیصد حملے ٹی ٹی پی سے وابستہ نیٹ ورکس اور بلوچ عسکریت پسند گروپوں کی طرف سے کیے گئے۔ دونوں گروہ ماضی میں بھی بعض اوقات علامتی قومی دنوں پر سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے میں محدود تعاون کرتے رہے ہیں، اگرچہ ان کے نظریاتی اور علاقائی مقاصد مختلف ہیں۔
یہ شدت پسندی اس وقت سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں میں افغانستان سے سرحد پار دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کی جانب سے کابل کی طالبان حکومت پر ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہیں دینے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان میں چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے جڑے ڈھانچے کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے، جسے بلوچ علیحدگی پسند اپنے قومی مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔
اسلام آباد میں حکام نے یوم آزادی پر ہونے والے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف ’’بلا امتیاز کارروائی‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان واقعات کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، شمالی وزیرستان اور جنوبی بلوچستان کے کئی اضلاع میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مربوط حملوں سے عسکریت پسندوں کی یہ صلاحیت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ بیک وقت مختلف محاذوں پر کارروائی کر سکتے ہیں، جس سے صوبوں کے درمیان انٹیلیجنس شیئرنگ اور ہدفی انسداد بغاوت اقدامات کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ حکام نے تمام چوکیوں کے کامیاب دفاع کو سراہا ہے، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں کی قیمتی جانوں کا نقصان اس دو دہائی طویل جنگ کی بھاری قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔