ہیما مالنی: ڈریم گرل سے شولے کی بسنتی تک

ہیما مالنی، 16 اکتوبر 1948 کو پیدا ہوئیں اور اپنے فنی سفر کا آغاز تمل اور تیلگو فلموں سے کیا۔ 1968 میں راج کپور کے ساتھ فلم سپنوں کا سوداگر سے ہندی فلم انڈسٹری میں قدم رکھا۔ جلد ہی “ڈریم گرل” کے لقب سے مشہور ہوئیں اور جانی میرا نام (1970)، انداز (1971) اور لال پتھر (1971) جیسی فلموں سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئیں۔ فلم سیتا اور گیتا (1972) میں ڈبل رول نے انہیں فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین اداکارہ دلایا اور ان کی غیر معمولی اداکاری کو ثابت کیا۔
1975 میں فلم شولے میں بسنتی کا کردار بھارتی سنیما کی تاریخ کا یادگار ترین کردار بن گیا۔ 1970 اور 80 کی دہائی میں وہ سنیاسی، دھرماتما، پرتگیا اور ترشول جیسی کامیاب فلموں میں جلوہ گر رہیں۔ بعد میں انہوں نے ہدایت کاری بھی کی، جن میں دل اشنا ہے (1992) نمایاں ہے، اور ٹیلی ویژن پر بھی کام کیا۔ بعد کے برسوں میں باغبان (2003) جیسی فلموں سے ناظرین کو متاثر کیا اور پدم شری سمیت کئی اعزازات حاصل کیے۔
ہیما مالنی کی ذاتی زندگی بھی خبروں میں رہی۔ فلم تم حسین میں جوان (1970) کے دوران دھرمیندر سے ملاقات ہوئی۔ دھرمیندر پہلے سے شادی شدہ تھے لیکن دونوں کا تعلق برسوں قائم رہا اور 1980 میں شادی کرلی۔ ہندو میرج ایکٹ کے تحت شادی ممکن نہ ہونے پر دھرمیندر نے اسلام قبول کیا اور شادی اسلامی اور آینگر دونوں رسومات کے تحت ہوئی۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں، ایشا اور اہانا۔
یہ شادی غیر روایتی تھی، اکثر الگ رہتے تھے لیکن باہمی احترام اور محبت نے اسے قائم رکھا۔ ہیما مالنی کا کہنا ہے کہ وہ دھرمیندر کے پہلے گھرانے میں کبھی مداخلت کرنے والی محسوس نہیں ہوئیں اور تعلقات خوشگوار رہے۔
پانچ دہائیوں پر محیط ان کا سفر غیر معمولی فن، ذاتی ہمت اور وقار کی مثال ہے، جو انہیں بھارتی فلمی صنعت کی لازوال شخصیت بناتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں