(ویب ڈیسک)؛ ایک شخص نے آن لائن ایک کیمیکل خریدا اور اسے تین ماہ تک اپنے کھانے میں استعمال کرتا رہا۔ کچھ عرصے بعد اس میں ذہنی انتشار، وہم، اور حد سے زیادہ پیاس جیسی علامات ظاہر ہونے لگیں۔ اسپتال میں داخلے کے وقت وہ کنفیوژن کا شکار تھا اور یہ سوچ کر پانی پینے سے انکار کر رہا تھا کہ شاید یہ آلودہ ہو۔
تشخیص: برومائیڈ زہر خورانی
ڈاکٹروں نے اس کی حالت کو برومائیڈ پوائزننگ قرار دیا — جو آج کل ایک نایاب تشخیص ہے، حالانکہ ماضی میں بعض بیماریوں کے علاج میں یہ عام سمجھی جاتی تھی۔ مریض میں نیورولوجیکل علامات، چہرے پر خارش، اور چھوٹے سرخ دھبے (جنہیں “چیری اینجیومز” کہا جاتا ہے) پائے گئے، جو برومزم کی کلاسیکل علامات ہیں۔
خوش قسمتی سے، تین ہفتے کے اسپتال علاج کے بعد مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا۔
یہ واقعہ اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ مصنوعی ذہانت پر اندھا اعتماد خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے، اور اے آئی کے مشورے کو کبھی بھی مستند طبی رہنمائی کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔