عمران خان سے ملاقات اور سیاسی مذاکرات دو الگ معاملات ہیں

اسلام آباد – وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناءاللہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ملاقات کا معاملہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان وسیع تر سیاسی مذاکرات سے الگ ہے۔
نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے سوال اٹھایا کہ “اگر عمران خان سے ملاقات میں کوئی رکاوٹ ہے تو پی ٹی آئی دوبارہ عدالت میں توہینِ عدالت کی درخواست کیوں نہیں دیتی؟ جیل حکام کے مطابق وہ عدالتی احکامات پر عمل کر رہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی ایسے معاملات کو میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اچھالتی ہے۔ اگر پولیس نے آج غلط طریقے سے ملاقات روکی ہے تو کل جیل سپرنٹنڈنٹ کو عدالت میں بلا لیا جائے۔”
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا سیاسی ایجنڈا اب صرف عمران خان سے ملاقات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ “اگر یہی ان کا واحد مسئلہ ہے تو آئیں اور اس پر بات کریں۔ جب وزیراعظم مذاکرات کی دعوت دیں گے تو ہم بات کا آغاز اسی نکتے سے کر سکتے ہیں،” انہوں نے کہا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد سے تعطل کا شکار ہے، جن کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن ہوا۔
عمران خان اس وقت مختلف مقدمات میں سزائیں بھگت رہے ہیں اور مسلسل شکایت کرتے ہیں کہ انہیں وکلاء اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ عدالتیں بعض اوقات ملاقات کی اجازت دیتی ہیں لیکن پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ جیل انتظامیہ جان بوجھ کر رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔
حکومتی مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی کو قانونی معاملات کو سیاسی مذاکرات سے الگ رکھنا چاہیے اور بات چیت کا محور انتخابی و حکومتی امور ہونے چاہئیں، نہ کہ جیل میں ملاقاتوں کے انتظامات۔ رانا ثناءاللہ کا حالیہ بیان اسی حکومتی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ اگرچہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مگر ملاقات کا مسئلہ سیاسی ایجنڈے پر حاوی نہیں ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں