بٹ کوائن ریکارڈ سطح پر، بُلش کی لسٹنگ سے امریکی کرپٹو مارکیٹ میں نئی جان.

کرپٹو کرنسی ایکسچینج آپریٹر بُلش نے بدھ کو نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں اپنے پہلے روز شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے حصص کی قیمت دگنی سے بھی زیادہ کر دی، جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 13.16 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس پیش رفت کو سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے اور ماہرین کے مطابق اس سے دیگر ڈیجیٹل اثاثہ جاتی کمپنیوں کی امریکی مارکیٹ میں لسٹنگ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

بُلش، جو کرپٹو نیوز ویب سائٹ کوائن ڈیسک کی بھی مالک ہے، نے ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) میں 1.11 ارب ڈالر اکٹھے کیے، جس سے کمپنی کی ابتدائی مالیت 5.4 ارب ڈالر رہی۔ یہ پیش رفت اس بڑھتی ہوئی مرکزی دھارے کی قبولیت کو ظاہر کرتی ہے، جہاں کرپٹو مارکیٹ حال ہی میں 4 کھرب ڈالر کی حد عبور کر چکی ہے۔

آئی پی او بوٹیک کے سینئر ریسرچ اینالسٹ جیف زیل کے مطابق، “بُلش نے پرکشش ابتدائی ویلیو کے ساتھ مارکیٹ میں داخلہ لیا، اور سرمایہ کاروں نے پری آئی پی او مرحلے میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔”

حصص 90 ڈالر پر کھلے، ایک موقع پر 118 ڈالر تک پہنچے اور بعد میں معمولی کمی کے ساتھ 92.60 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہے تھے، جو 37 ڈالر کے آئی پی او پرائس سے 150 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔

پرو-کرپٹو وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے تحت ریگولیٹری کامیابیاں، کارپوریٹ سطح پر کرپٹو کو اپنانا، اور ای ٹی ایف میں سرمایہ کاری کے بڑھتے رجحان نے سرمایہ کاروں کو اس شعبے کی طرف راغب کیا ہے، جس سے بٹ کوائن کی قیمت ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔ دیگر کمپنیاں جیسے جیمینی اور گری اسکیل نے بھی خفیہ طور پر پبلک ہونے کے لیے درخواست دی ہے۔

بُلش کے صدر کرس ٹائرر کے مطابق، “ہم آج پبلک ہو گئے ہیں، اور ہمارے بعد کئی کمپنیاں آئیں گی۔ یہ مارکیٹ کے لیے مثبت ہے کیونکہ اس سے سرمایہ کاروں کے لیے اس اثاثہ جاتی کلاس تک رسائی کے مزید راستے کھلتے ہیں۔”

ٹائرر نے مزید بتایا کہ کمپنی نیویارک کا “بٹ لائسنس” حاصل کرنے کے قریب ہے، جو جانچ پڑتال، اینٹی منی لانڈرنگ اور سرمایہ جاتی معیار پر عمل درآمد کو لازمی قرار دیتا ہے۔ کمپنی آئی پی او سے حاصل شدہ سرمائے کا بڑا حصہ اسٹیبل کوائنز میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “جینیئس ایکٹ” کے بعد تیزی سے بڑھتا ہوا شعبہ ہے، جس نے ڈالر سے منسلک کرپٹو کرنسیوں کے لیے ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا۔

ادارتی توجہ
بُلش کی لسٹنگ امریکہ میں کرپٹو ایکسچینجز کی نایاب مثال ہے، جس میں پہلے سے موجود کوائن بیس بھی شامل ہے۔ 2020 میں قائم ہونے والی یہ کمپنی ادارہ جاتی کلائنٹس کو ہدف بناتی ہے، جن کی کرپٹو میں سرمایہ کاری کے بڑھنے کی توقع ہے کیونکہ نئے قوانین 401(k) ریٹائرمنٹ پلانز میں متبادل سرمایہ کاری کی اجازت دیتے ہیں۔

نِکل ڈیجیٹل ایسٹ مینجمنٹ کے شریک چیف انویسٹمنٹ آفیسر مائیکل ہال کے مطابق، “خالصتاً ادارہ جاتی حکمت عملی بُلش کو زیادہ مستحکم اور مسلسل آمدنی فراہم کر سکتی ہے، برخلاف ان ایکسچینجز کے جو ریٹیل صارفین پر انحصار کرتی ہیں اور جن کی آمدنی مارکیٹ کے رجحان سے بدلتی رہتی ہے۔”

بُلش کے سی ای او ٹام فارلی، جو پہلے نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے صدر رہ چکے ہیں، اس شعبے کو ساکھ دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہال کے مطابق، “ایسی قیادت ادارہ جاتی کلائنٹس کو جیتنے میں اہم فرق ڈال سکتی ہے۔”
(رائٹرز)

اپنا تبصرہ لکھیں