اسلام آباد – منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں 16 نجی اراکین کے بل پیش کیے گئے جن میں غذائی افزودگی، آئینی ترامیم، انتخابی اصلاحات، جرائم کے قوانین میں تبدیلی اور ڈیجیٹل میڈیا پر فحاشی و عریانی کی روک تھام سمیت مختلف امور شامل تھے۔
پیش کیے گئے بلز میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری فوڈ فورٹیفیکیشن بل 2025، کریمنل لاز (ترمیمی) بل 2025 (سیکشن 498D اور شیڈول II)، پبلک انٹرسٹ ڈسکلوزرز (ترمیمی) بل 2025، آئین (ترمیمی) بل 2025 (آرٹیکلز 1، 51، 59، 106، 154، 175A، 198 اور 218)، الیکشنز (ترمیمی) بل 2025، آئین (ترمیمی) بل 2025 (آرٹیکلز 140A اور 160A)، گارجینز اینڈ وارڈز (ترمیمی) بل 2025، لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز (ترمیمی) بل 2025، پریوینشن آف ابسینٹی اینڈ انڈیسنسی ان ڈیجیٹل میڈیا بل 2025، الائیڈ انسٹیٹیوٹ ملتان بل 2025، سروس ٹریبونلز (ترمیمی) بل 2025، نادرا (ترمیمی) بل 2025، اسلام آباد چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ لیبر (ممنوعہ و ضابطہ) بل 2025، ملٹی وینڈر الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن بل 2025 اور ٹول پلازہ ریشنلائزیشن اینڈ ایکویٹی بل 2025 شامل ہیں۔
یہ بلز ایوان میں شائستہ پرویز، شازیہ مری، ڈاکٹر شرمیلا فاروقی، محمد ریاض فتیانہ، صاحبزادہ صبغت اللہ، اویس حیدر جکھر، نوشین افتخار، شاہدہ رحمانی، خواجہ اظہار الحسن، سہیل سلطان، سحر کمر ان اور سید ابرار علی شاہ نے پیش کیے۔